حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ متنازعہ فیصلہ کے بعد دھار کی تاریخی بھوجشالہ-کمال مولیٰ مسجد عمارت میں جمعہ کے روز پہلی مرتبہ ہندو تنظیموں کی جانب سے ’’مہا آرتی‘‘ کا اہتمام کیا گیا، جبکہ مسلم برادری نے بطور احتجاج عمارت میں نماز جمعہ ادا نہ کرتے ہوئے اپنے گھروں اور محلوں میں نماز ادا کی۔ اس موقع پر پورا شہر سخت سیکیورٹی حصار میں رہا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے تقریباً 1800 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
جمعہ کی صبح سے ہی کمال مولیٰ کمپلیکس اور اطراف کی سڑکوں پر سخت ناکہ بندی کردی گئی تھی۔ ریپڈ ایکشن فورس، کوئیک رسپانس فورس اور اسپیشل ٹاسک فورس کے دستے حساس علاقوں میں مسلسل گشت کرتے رہے، جبکہ پولیس حکام سوشل میڈیا پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں اضافی چوکیاں قائم کی گئیں اور جمعرات کی شب پولیس نے شہر بھر میں فلیگ مارچ بھی کیا تھا تاکہ امن و امان برقرار رکھا جاسکے۔
پولیس کے مطابق، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے ہندو فریق کو عبادت کی مکمل اجازت دیے جانے کے بعد کمپلیکس میں مہا آرتی منعقد کی گئی۔ دھار کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے واضح کیا کہ صرف وہی مذہبی رسومات انجام دی جائیں گی جن کی اجازت مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم کے تحت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کے نمائندوں سے بات چیت کی گئی اور عدالت کے احکامات پر عمل آوری کی یقین دہانی حاصل کی گئی ہے۔
کمپلیکس کے اندر ہندو عقیدت مند ننگے پاؤں تاریخی عمارت میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے ہنومان چالیسا پڑھی اور دیوی سرسوتی کی آرتی کی۔ ہندو تنظیموں نے اس تقریب کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تقریباً 721 برس بعد پہلی مرتبہ جمعہ کے دن یہاں مہا آرتی منعقد ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ 15 مئی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ متنازعہ عمارت دراصل ’’بھوجشالہ‘‘ ہے جو دیوی سرسوتی کو وقف ایک مندر ہے۔ عدالت نے عمارت کو محفوظ یادگار قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ کو ریاست کی آئینی ذمہ داری بتایا۔ اس فیصلہ سے قبل 2003 میں اے ایس آئی کی نگرانی میں ایک انتظامی فارمولہ نافذ تھا، جس کے تحت ہندو منگل اور بسنت پنچمی کو پوجا کرتے تھے جبکہ مسلمانوں کو جمعہ کے دن نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل تھی۔
ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد اب ہندو تنظیموں نے مزید نئے مطالبات بھی شروع کردیئے ہیں۔ ’’ہندو فرنٹ فار جسٹس‘‘ سے وابستہ ایک درخواست گزار نے اے ایس آئی کو مکتوب روانہ کرکے کمپلیکس کے جنوب مشرقی حصہ میں موجود ایک بند کمرہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہ ’’اصل مندر‘‘ کا حصہ ہے۔
دوسری جانب مسلم فریق نے عدالت کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے پرامن اور علامتی احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ کمال مولیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے صدر عبدالصمد نے کہا کہ مسلمان عدالت کے فیصلہ کے خلاف سیاہ پٹیاں باندھ کر گھروں اور محلوں میں نماز جمعہ ادا کریں گے۔ کئی مقامات پر مسلمانوں نے دکانیں بند رکھیں اور سوشل میڈیا پر نماز کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے اپنے احتجاج کا اظہار کیا۔
اگرچہ پورے دن شہر میں کشیدگی کا ماحول محسوس کیا گیا، تاہم انتظامیہ کی سخت نگرانی کے باعث کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ دونوں فریق اب سپریم کورٹ میں ایک طویل قانونی جنگ کی تیاری کررہے ہیں۔


