حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کی خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالت نے منگل کو گوشہ محل کے بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کو سال 2022 میں درج کیے گئے انتہائی حساس اور متنازع مقدمے میں بری کر دیا۔ یہ مقدمہ منگل ہاٹ پولیس اسٹیشن میں اس وقت درج کیا گیا تھا جب راجہ سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخانہ اور توہین آمیز ریمارکس کیے تھے، جس کے بعد پورے حیدرآباد، خصوصاً پرانے شہر میں شدید احتجاج پھوٹ پڑا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقدمے کے دوران شکایت کنندہ نے خود اعتراف کیا کہ جن عبارات اور حوالوں کا ذکر کیا گیا تھا، وہ اسلامی لٹریچر سے متعلق تھے۔ عدالت نے تمام گواہوں، دستاویزات اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ استغاثہ ملعون راجہ سنگھ کے خلاف الزامات کو قانونی طور پر ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا ان کے خلاف مقدمہ قائم نہیں ہوتا اور انہیں باعزت بری کیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ 22 اگست 2022 کو اس وقت سامنے آیا تھا جب ملعون راجہ سنگھ نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو جاری کی تھی۔ ویڈیو میں انہوں نے نہ صرف پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں انتہائی متنازع اور توہین آمیز تبصرے کیے بلکہ معروف کامیڈین منور فاروقی اور ان کی والدہ کو بھی نشانہ بنایا۔ بعد ازاں ملعون راجہ سنگھ نے اس ویڈیو کو “کامیڈی” قرار دیا تھا۔ یہ ویڈیو اس وقت سامنے آئی جب تلنگانہ حکومت نے منور فاروقی کو حیدرآباد میں شو کرنے کی اجازت دی تھی، جس کی ملعون راجہ سنگھ نے سخت مخالفت کی تھی۔
ویڈیو وائرل ہوتے ہی حیدرآباد کے پرانے شہر میں رات بھر شدید احتجاج ہوا۔ شالہ بنڈہ سمیت مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور ملعون راجہ سنگھ کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں ایک سب انسپکٹر سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے، کئی بازار بند رہے اور مختلف مقامات پر ملعون راجہ سنگھ کے پتلے نذرِ آتش کیے گئے۔
اس تنازع کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے ملعون راجہ سنگھ کو پارٹی سے معطل کر دیا تھا۔ ابتدا میں انہیں گرفتار کیا گیا، تاہم تکنیکی وجوہات کی بنا پر رہائی مل گئی، لیکن چند ہی دن بعد دوبارہ گرفتار کر کے پریوینٹیو ڈیٹینشن (PD) ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا، جہاں وہ تقریباً 77 دن قید رہا۔ بعد ازاں عدالت سے ضمانت ملنے پر اسے رہا کیا گیا۔
اس پورے معاملے میں حیدرآباد اور سائبرآباد پولیس نے ان کے خلاف مجموعی طور پر آٹھ مقدمات درج کیے تھے، جبکہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران مختلف تھانوں میں اس کے خلاف 40 سے زائد مقدمات درج ہو چکے ہیں، جن میں سے بیشتر میں وہ عدالتوں سے بری ہو چکا ہیں۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد ملعون راجہ سنگھ نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ان کی چار سالہ قانونی جدوجہد کی کامیابی اور عدلیہ پر ان کے اعتماد کی توثیق ہے۔ انہوں نے اپنے وکلاء، حامیوں اور تمام ان افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مقدمے کے دوران ان کا ساتھ دیا۔


