کیا یہ ایس آئی آر کا توڑ ہے؟ کرناٹک حکومت کا مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اعلان! تلنگانہ کی کانگریس حکومت خواب غفلت سے کب بیدار ہوگی؟

حیدرآباد (دکن فائلز) انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹروں کے نام حذف ہونے کے خدشات کے درمیان کرناٹک حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اہل شہریوں کو مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (Permanent Residence Certificate – PRC) جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کو ایسے وقت میں سامنے لایا گیا ہے جب ایس آئی آر کے عمل پر ملک بھر میں سیاسی بحث جاری ہے، اور کئی حلقے اسے ووٹروں کے اندراج کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے اعلان کیا کہ حکومت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی اہل شہری محض دستاویزات کی کمی کی وجہ سے اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خصوصی نظرِ ثانی کے دوران مردم شماری (Enumeration) فارم لازماً پُر کریں تاکہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں برقرار رہے۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اہل ووٹر مقررہ مدت میں فارم جمع نہیں کرتا تو اس کا نام انتخابی فہرست سے حذف ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق بوتھ لیول افسران (BLOs) ہر گھر میں تین مرتبہ جائیں گے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ مکمل تعاون کریں۔ شیو کمار نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ خود بھی اپنی رہائش گاہ پر جا کر فارم جمع کریں گے تاکہ عوام میں بیداری پیدا ہو۔

مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا آسان
حکومت نے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لیے جامع رہنما اصول جاری کر دیے ہیں۔ اب شہری یہ سرٹیفکیٹ آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے حاصل کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے سیوا سندھو (Seva Sindhu) پورٹل، اے جے ایس کے (AJSK)، نڈا کچیری، بنگلورو ون، کرناٹک ون، گراما ون اور دیگر سرکاری مراکز سے بھی درخواست دی جا سکے گی۔

حکومت نے نائب تحصیلداروں، تحصیلداروں اور دیگر مجاز افسران کو یہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے اختیارات دے دیے ہیں، جبکہ اپیل کے لیے اسسٹنٹ کمشنر اور نظرثانی کے لیے ڈپٹی کمشنر کو مجاز اتھارٹی مقرر کیا گیا ہے۔

کرایہ دار بھی فائدہ اٹھا سکیں گے
ڈی کے شیو کمار نے واضح کیا کہ صرف مکان مالکان ہی نہیں بلکہ کرایہ دار اور دیگر رہائشی بھی آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ (EPIC)، انتخابی فہرست یا دیگر منظور شدہ دستاویزات کی بنیاد پر مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس پورے عمل کو آسان اور شفاف بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے ہیں تاکہ کوئی بھی اہل شہری مشکلات کا شکار نہ ہو۔

ہزاروں امدادی مراکز قائم کیے جائیں گے
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ریاست بھر میں 49,320 امدادی مراکز قائم کیے جائیں گے، جن میں ہر گرام پنچایت اور شہری وارڈ میں ہیلپ ڈیسک موجود ہوگا۔ یہاں شہریوں کو فارم بھرنے، دستاویزات اپ لوڈ کرنے اور رہائشی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔

حکام کے مطابق جن شہریوں کے موبائل نمبر پہلے سے سرکاری ریکارڈ میں رجسٹرڈ ہیں، انہیں واٹس ایپ کے ذریعے بھی ضروری دستاویزات فراہم کی جا سکیں گی۔ حکومت “کٹمبا” (Kutumba) سمیت دیگر مستند ڈیٹا بیس استعمال کرے گی تاکہ تصدیقی عمل آسان ہو اور شہریوں کو غیر ضروری کاغذی کارروائی سے بچایا جا سکے۔

پانچ اعشاریہ پانچ کروڑ شہریوں تک رسائی کا منصوبہ
ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ حکومت کا ہدف ریاست کے 5.5 کروڑ شہریوں تک پہنچنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پہلے ہی انا بھاگیہ اسکیم کے تحت تقریباً **4.5 کروڑ افراد** تک خدمات پہنچا رہی ہے اور ریاست کے لاکھوں شہریوں کا ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے، جس کی مدد سے یہ عمل مزید آسان بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ شہری اپنے موبائل فون کے ذریعے بھی فارم جمع کرا سکتے ہیں اور ہر بوتھ لیول افسر روزانہ تقریباً 50 فارم تقسیم کرے گا، اسی لیے اس پورے عمل کے لیے ایک ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔

ووٹ کا حق محفوظ رکھنے کی اپیل
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہر شہری کے ووٹ کے حق کا تحفظ ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کا نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو گیا تو اسے مستقبل میں کئی سرکاری فلاحی اسکیموں، پنشن اور دیگر سہولیات کے حصول میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ مردم شماری فارم میں تفصیلات زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے بھرنا قدرے مشکل محسوس ہوا، لیکن یہ عمل اس لیے ضروری ہے تاکہ صرف حقیقی اور اہل ووٹر ہی انتخابی فہرست میں شامل رہیں۔

سیاسی حلقوں میں نئی بحث
کرناٹک حکومت کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی ایس آئی آر کے عمل پر سوالات اٹھا رہی تھیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ کے اجرا سے اہل شہریوں کے حقوق محفوظ ہوں گے اور کسی بھی مستحق ووٹر کو انتخابی عمل سے باہر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ اس اقدام سے خصوصی جامع نظرِ ثانی (SIR) کے دوران ووٹروں کے اندراج اور انتخابی عمل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، تاہم عوامی سطح پر اس اعلان کو بڑی تعداد میں مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ وہیں تلنگانہ میں بھی عوام کی جانب سے اسی طرح کے اقدامات کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کب تلنگانہ کی کانگریس حکومت خواب غفلت سے بیدار ہوگی اور ایس آئی آر کے چلتے شہریوں کے حق میں فیصلہ کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں