’’الحمدللہ میں مسلمان ہوں‘‘ کہنے والے محمد علی دوبارہ آیوش بن گئے، اتر پردیش کے مذہب تبدیلی معاملہ نے نیا رخ اختیار کر لیا

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع شاملی میں مذہب تبدیلی سے متعلق زیرِ بحث معاملہ ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام محمد علی رکھنے والے نوجوان آیوش ملک نے اب دوبارہ ہندو مذہب اختیار کر لیا ہے۔ ہندو مذہبی رسومات کے تحت منعقدہ ’’گھر واپسی‘‘ پروگرام میں شرکت کے بعد انہوں نے خود کو دوبارہ ہندو قرار دیا، جبکہ اس پورے معاملے کی قانونی تحقیقات ابھی بھی جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں آیوش ملک اپنے والدین کے ساتھ ہندو مذہبی رسومات ادا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پسند کی لڑکی سے محبت کی وجہ سے اسلام قبول کیا تھا، لیکن والدین کی تکلیف اور ذہنی اذیت دیکھ کر دوبارہ اپنے سابقہ مذہب میں واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ ویڈیو میں وہ اپنے والدین سے معافی مانگتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

اس ’’گھر واپسی‘‘ پروگرام کی تصدیق یوگ سادھنا آشرم کے سربراہ یشویر مہاراج نے بھی کی۔ ان کے مطابق آیوش ملک نے نہ صرف دوبارہ ہندو مذہب اختیار کیا بلکہ اپنے گھر سے اسلام سے متعلق تمام مذہبی اشیا بھی ہٹا دیں اور دوبارہ ہندو عبادات شروع کر دیں۔ انہوں نے اسے خاندان کی کامیابی اور کئی ہفتوں کی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔

یہ معاملہ گزشتہ ماہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب آیوش ملک کے والد دیوراج ملک نے اتر پردیش کے مذہب تبدیلی مخالف قانون کے تحت شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ آیوش کو ایک خاتون چاندنی قریشی اور ان کے اہل خانہ نے مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیا۔

پولیس کے مطابق آیوش، جو بی فارمیسی کے گریجویٹ ہیں اور اپنے خاندان کی میڈیکل اسٹور میں کام کرتے تھے، سنہ 2018 میں ٹانگ کے علاج کے دوران شاملی کے ایک اسپتال میں فزیوتھراپسٹ چاندنی قریشی سے ملے تھے۔ بعد میں دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2023 میں آیوش کو دہلی لے جایا گیا، جہاں انہوں نے اسلام قبول کر کے اپنا نام محمد علی رکھ لیا اور مبینہ طور پر نکاح بھی کیا گیا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران اب تک نکاح کا کوئی سرکاری سرٹیفکیٹ یا قانونی ثبوت برآمد نہیں ہوا۔

تحقیقات کے مطابق مذہب تبدیل کرنے کے بعد آیوش اسلامی طرزِ زندگی اختیار کرنے لگے تھے۔ وہ پانچ وقت نماز ادا کرتے، داڑھی رکھتے اور لباس بھی اسلامی انداز کا پہننے لگے تھے۔ آیوش کے والد نے اپنی شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ مذہب تبدیلی کے پیچھے خاندان کی کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی سازش تھی۔

پولیس نے اس مقدمے میں چاندنی قریشی، ان کے والد اسلام قریشی سمیت چار افراد کو گرفتار کیا تھا، جبکہ مجموعی طور پر نو افراد کے خلاف مذہب تبدیلی قانون، دھوکہ دہی، جعلسازی، مجرمانہ دھمکی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں