حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے ضلع نظام آباد کے آرمور میں ایک نجی اسکول کے پرنسپل اور اردو ٹیچر کے ساتھ پولیس کی موجودگی میں مبینہ غنڈہ گردی اور تشدد کے واقعہ نے ریاست میں سیاسی اور سماجی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بی جے پی سے وابستہ ایک غنڈہ نے پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں اسکول کے پرنسپل عامر خان کو تھپڑ مارتا ہے اور انکی مسلم شناخت کی بیحرمتی کرتا ہے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے، جس کے بعد پولیس کے کردار، ریاستی حکومت کی سافٹ ہندوتوا پالیسی اور اظہارِ رائے کی آزادی پر متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
واقعہ کے بعد پولیس نے بی جے پی آرمور ٹاؤن صدر منڈولا بالو کے خلاف مقدمہ درج کیا اور بعد میں اسے گرفتار بھی کیا، تاہم اسی کے ساتھ اسکول کے پرنسپل، اردو ٹیچر اور اسکول انتظامیہ کے خلاف بھی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے، جس پر سیاسی جماعتوں اور سماجی کارکنوں نے سخت اعتراض کیا۔
تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب تلنگانہ پولیس نے متعدد صحافیوں، فیکٹ چیکرز اور سوشل میڈیا صارفین کو واقعہ کی ویڈیو شیئر کرنے پر ٹیک ڈاؤن نوٹس جاری کیے۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ ویڈیو سے فرقہ وارانہ کشیدگی اور امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ ناقدین نے اسے آزادیٔ اظہار اور صحافتی ذمہ داری پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔
اس واقعہ پر ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی، ایم بی ٹی کے ترجمان امجد اللہ خان، کانگریس کی رکن پارلیمنٹ رینوکا چودھری اور دیگر شخصیات نے مختلف ردِعمل ظاہر کیے۔ اسدالدین اویسی نے بی جے پی کی غنڈہ گردی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ رینوکا چودھری نے کہا کہ اردو تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان ہے اور اسے پڑھانے پر اعتراض کی کوئی آئینی بنیاد نہیں۔ امجد اللہ خان نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں اقلیتوں کے خلاف منتخب انداز میں کارروائیاں ہو رہی ہیں، جبکہ انہوں نے کانگریس حکومت کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے۔
یہ معاملہ اب صرف ایک اسکول یا زبان کے تنازع تک محدود نہیں رہا بلکہ پولیس کے طرزِ عمل، اظہارِ رائے کی آزادی، اقلیتی حقوق اور قانون کے یکساں نفاذ سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ ناقدین کا مطالبہ ہے کہ پورے واقعہ کی غیر جانبدارانہ عدالتی یا اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ پولیس نے ہر فریق کے ساتھ قانون کے مطابق اور مساوی سلوک کیا یا نہیں۔
ایسے حساس معاملات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیونکہ اگر عوام کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہو کہ قانون کا اطلاق مختلف افراد یا گروہوں پر مختلف انداز میں ہو رہا ہے تو اس سے عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ تحقیقات شفاف ہوں، ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔


