حیدرآباد (دکن فائلز) ممبئی پولیس نے محرم کے جلوس کے دوران ہزاروں عزاداروں کو مبینہ طور پر زہر دے کر قتل کرنے کی ایک بڑی سازش ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے 39 سالہ فیاض پریم جی نامی شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے ابتدائی پوچھ گچھ میں اعتراف کیا ہے کہ اس کا منصوبہ محرم کے جلوس میں شریک افراد کو زہریلے کیپسول تقسیم کر کے بڑی تعداد میں ہلاکتیں کرنے کا تھا۔ تاہم اس دعوے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور پولیس اس کے تمام پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے۔
تحقیقات کے مطابق فیاض پریم جی، جو پونے کا رہنے والا تاجر ہے، محرم کے جلوس سے تقریباً دو ہفتے قبل جنوبی ممبئی کے ڈونگری علاقے کے ایک سستے ہوٹل میں ٹھہرا تھا۔ الزام ہے کہ اس دوران اس نے ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے 30 ہزار خالی کیپسول اور تقریباً 50 کلوگرام زنک فاسفائیڈ (چوہے مار زہر) منگوایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کئی دن تک اپنے ہوٹل کے کمرے میں یہ کیپسول تیار کرتا رہا۔
چھاپے کے دوران پولیس نے ہوٹل سے 14,900 زہریلے کیپسول برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ باقی کیمیکل اور دیگر سامان بھی قبضے میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
15 ہزار افراد کو نشانہ بنانے کا مبینہ منصوبہ
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم نے پوچھ گچھ میں مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ یہ کیپسول درد کم کرنے والی دوا کے طور پر عزاداروں میں تقسیم کرنا چاہتا تھا اور اس کے ذریعے تقریباً 15 ہزار افراد کو ہلاک کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف مجموعی طور پر 30 ہزار کیپسول تیار کرنا تھا، تاہم اس سے پہلے ہی اسے گرفتار کر لیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزم نے بعض دیگر افراد سے بھی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی اور مبینہ طور پر اس کام کو “نیکی” قرار دے کر انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ پولیس اب اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا وہ اکیلا کام کر رہا تھا یا اس کے ساتھ کوئی منظم نیٹ ورک بھی سرگرم تھا۔
فیاض پریم جی کون ہے؟
رپورٹس کے مطابق فیاض پریم جی کا تعلق کھوجہ شیعہ برادری سے ہے، جو گجرات اور کچھ کے تجارتی پس منظر رکھنے والی ایک معروف مسلم برادری سمجھی جاتی ہے۔ مختلف انٹرویوز میں اس نے بتایا تھا کہ اس کا خاندان پہلے گجرات میں رہتا تھا اور بعد میں پونے منتقل ہو گیا، جبکہ بعض مواقع پر اس نے حیدرآباد سے بھی خاندانی تعلقات کا ذکر کیا۔
فیاض نے اپنے متعدد انٹرویوز میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ مذہبی عقائد پر سوال اٹھاتا رہا اور یہی رجحان بعد میں اسے مذہبی اصلاحات کی تحریک کی طرف لے گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 2015-16 کے دوران اس نے ممبئی میں چند ہم خیال افراد کے ساتھ مل کر کھوجہ شیعہ برادری میں اصلاحات کی مہم چلانے کی کوشش کی، لیکن اسے خاطر خواہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔
بعد ازاں اس نے سوشل میڈیا پر مذہبی شخصیات اور روایتی مذہبی نظریات پر سخت تنقید شروع کر دی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اسی وجہ سے اس کے خلاف شکایات درج کرائی گئیں، اس کے کاروبار کو نقصان پہنچایا گیا اور سماجی طور پر اس کا بائیکاٹ کیا گیا۔
اسلام چھوڑنے اور ایران منتقل ہونے کا دعویٰ
فیاض پریم جی نے متعدد ویڈیوز اور انٹرویوز میں خود کو “سابق مسلمان ” (Ex-Muslim) اور ملحد قرار دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ 2019 میں وہ ایران منتقل ہوا کیونکہ اسے امید تھی کہ وہاں مذہبی اصلاحات کا ماحول ہوگا، لیکن بعد میں اس نے دعویٰ کیا کہ وہاں بھی اسے سخت مذہبی قدامت پسندی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد کے برسوں میں وہ مختلف دائیں بازو کے یوٹیوب چینلز اور پوڈکاسٹس میں باقاعدگی سے شریک ہوتا رہا، جہاں وہ شیعہ اسلام، ایران اور اپنے مذہب چھوڑنے کے تجربات بیان کرتا تھا۔
پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس مبینہ سازش کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے، آیا کسی تنظیم یا فرد نے اس کی مدد کی یا وہ تنہا اس منصوبے پر عمل کر رہا تھا۔ فرانزک رپورٹ اور مزید تفتیش کے بعد ہی پوری حقیقت سامنے آنے کی توقع ہے۔


