حیدرآباد (دکن فائلز) گواہاٹی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں فارنرز ٹریبونل کے اس حکم کو برقرار رکھا ہے جس میں آسام کے ایک رہائشی کو غیر ملکی قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف متعدد دستاویزات پیش کر دینا کافی نہیں، بلکہ شہریت ثابت کرنے کے لیے قابل قبول، مستند اور باہم مربوط قانونی شواہد ضروری ہوتے ہیں۔
عدالت کے روبرو پیش ہونے والے شخص نے اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کے لیے 15 مختلف دستاویزات پیش کیے تھے، جن میں 1951 کے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کی نقل، مختلف برسوں کی ووٹر لسٹیں، زمین کی رجسٹری، اسکول کا سرٹیفکیٹ، پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی شامل تھے، تاہم عدالت نے ان تمام دستاویزات کو شہریت ثابت کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا۔
جسٹس کلیان رائے سورانا اور جسٹس شمیمہ جہاں پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 1951 کے این آر سی کی نقل کمپیوٹر سے حاصل کی گئی تھی، لیکن اس کے ساتھ انڈین ایویڈنس ایکٹ کے مطابق ضروری تصدیقی سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا، اس لیے اسے قانونی شہادت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح 2017 میں جاری ہونے والے اسکول سرٹیفکیٹ کو بھی عدالت نے مسترد کر دیا کیونکہ اسے جاری کرنے والے ہیڈ ماسٹر کو بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کسی شخص کی شہریت کا حتمی یا ناقابل تردید ثبوت نہیں ہوتے، بلکہ یہ صرف شناختی یا ٹیکس سے متعلق دستاویزات ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کی پیدائش یکم مئی 1988 کو آسام کے گھوگودوبا گاؤں میں ہوئی تھی، جبکہ بعد میں اس کا خاندان ہاشدوبا منتقل ہو گیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے خاندان کے نام کئی دہائیوں سے مسلسل ووٹر لسٹوں میں درج ہیں۔
تاہم عدالت نے مختلف برسوں کی ووٹر لسٹوں کا جائزہ لینے کے بعد متعدد تضادات کی نشاندہی کی۔ ایک ووٹر لسٹ میں خاندان کے ایک فرد کی عمر 1979 میں 25 برس درج تھی، لیکن دس سال بعد 1989 کی فہرست میں اس کی عمر صرف 29 برس لکھی گئی، جو عدالتی نظر میں ایک اہم تضاد تھا۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ مختلف اوقات میں خاندان کے نام تین مختلف دیہات دھوباکورا، گھوگودوبا اور ہاشدوبا سے وابستہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن پیش کیے گئے ریکارڈ میں ان مقامات کے درمیان خاندانی تعلق اور نسب کو قابل قبول انداز میں ثابت نہیں کیا جا سکا۔
درخواست گزار کے والد نے عدالت میں گواہی بھی دی، لیکن عدالت نے قرار دیا کہ شہریت جیسے حساس معاملے میں صرف زبانی بیان کافی نہیں ہوتا بلکہ مضبوط دستاویزی شواہد ضروری ہوتے ہیں۔ مزید برآں، والد کے بیان اور سرکاری ریکارڈ میں بھی کئی تضادات موجود تھے۔
ہائی کورٹ نے تمام شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کہا کہ فارنرز ٹریبونل کے فیصلے میں کسی قسم کی قانونی خامی موجود نہیں ہے، اس لیے درخواست خارج کی جاتی ہے۔ عدالت نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 9 کے تحت اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری متعلقہ شخص پر ہی عائد ہوتی ہے، اور اگر وہ معتبر و قابل قبول شواہد پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے تو محض متعدد دستاویزات کی موجودگی اس کی شہریت ثابت نہیں کر سکتی۔
یہ فیصلہ آسام میں شہریت سے متعلق مقدمات کے تناظر میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں دستاویزات کی قانونی حیثیت اور ان کی باہمی مطابقت کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔


