تلنگانہ: تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے بڑی خوشخبری، تین یونیورسٹیوں میں 984 آسامیوں پر انٹرویو کے بغیر ہوگی بھرتی

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ حکومت نے ریاست کے بے روزگار اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تین بڑی زرعی اور متعلقہ جامعات میں 984 تدریسی اور دیگر آسامیوں پر تقرریوں کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے بھرتی کے نظام میں ایک بڑی اصلاح کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئندہ ان تقرریوں میں انٹرویو کا طریقہ مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا اور امیدواروں کا انتخاب صرف تحریری امتحان اور تعلیمی میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت محکمہ زراعت کے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں کیا گیا، جہاں بھرتیوں میں شفافیت کو یقینی بنانے اور سفارش و بدعنوانی کے امکانات ختم کرنے پر زور دیا گیا۔ حکومت کے مطابق یہ تقرریاں درج ذیل تین جامعات میں کی جائیں گی:
* آچاریہ جے شنکر تلنگانہ اسٹیٹ ایگریکلچر یونیورسٹی (PJTSAU)
*کونڈا لکشمن تلنگانہ اسٹیٹ ہارٹیکلچر یونیورسٹی (SKLTSHU)
* پی وی نرسمہا راؤ ویٹرنری یونیورسٹی (PVNRTVU)

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت پہلے ہی گروپ-1 سمیت کئی اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں انٹرویو ختم کر چکی ہے، اور اب یہی پالیسی جامعات میں بھی نافذ کی جا رہی ہے تاکہ صرف اہل اور باصلاحیت امیدواروں کو مواقع مل سکیں۔

بھرتی ہونے والی آسامیوں کی تفصیلات
آچاریہ جے شنکر زرعی یونیورسٹی میں 550 اسسٹنٹ پروفیسر آسامیوں پر تقرری ہوگی۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بتایا کہ جلد نئی بھرتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

کونڈا لکشمن ہارٹیکلچر یونیورسٹی میں مجموعی طور پر 140 آسامیاں پر کی جائیں گی، جن میں:
79 اسسٹنٹ پروفیسر
44 ایسوسی ایٹ پروفیسر
17 پروفیسر شامل ہیں۔

پی وی نرسمہا راؤ ویٹرنری یونیورسٹی میں بیک لاگ اور نئی آسامیوں سمیت 294 پوسٹوں پر تقرری کی جائے گی۔ حکومت نے ہدایت دی ہے کہ تینوں جامعات میں تمام تقرریاں صرف تحریری امتحان اور تعلیمی ریکارڈ کی بنیاد پر ہوں گی اور کسی امیدوار کا انٹرویو نہیں لیا جائے گا۔

اس فیصلے کا بے روزگار نوجوانوں اور تعلیمی حلقوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ انٹرویو ختم ہونے سے سفارش، جانبداری اور بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے جبکہ دیہی اور غریب پس منظر سے تعلق رکھنے والے اہل امیدواروں کو مساوی مواقع حاصل ہوں گے۔

جامعات کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ جلد ہی تفصیلی نصاب، امتحانی شیڈول اور بھرتی سے متعلق دیگر رہنما اصول جاری کیے جائیں گے تاکہ تقرری کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں