حیدرآباد میں گائے کے گوشت کو مٹن میں ملاکر ہوٹلوں کو سپلائی کرنے والا گینگ بے نقاب، دو ملزمان گرفتار، 50 کیلو گوشت ضبط

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں پولیس نے ایک ایسے گینگ کا پردہ فاش کیا ہے جو مبینہ طور پر بیف کو مٹن (بکرے کے گوشت) کے نام پر مختلف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو فروخت کر رہا تھا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ ان کے قبضے سے تقریباً 50 کلوگرام مشتبہ گوشت برآمد کیا گیا ہے، جسے جانچ کے لیے فارنسک لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت سید عبدالقادر اور محمد خلیل کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں پر الزام ہے کہ وہ کم قیمت پر بیف خرید کر اسے مٹن ظاہر کرتے ہوئے شہر کے مختلف ہوٹلوں اور کھانے پینے کے مراکز کو سپلائی کرتے تھے، جس کے ذریعے وہ غیر قانونی منافع کما رہے تھے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ شہر میں ایک گروہ بیف کو مٹن کے طور پر فروخت کر رہا ہے۔ اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے متعلقہ مقام پر چھاپہ مار کارروائی کی، جہاں سے بڑی مقدار میں گوشت برآمد ہوا۔ بعد ازاں دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ گوشت کے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ واقعی گائے کا گوشت ہے یا نہیں۔ رپورٹ آنے کے بعد متعلقہ دفعات کے تحت مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

تحقیقات کے دوران پولیس یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ گوشت کن ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو فراہم کیا جاتا تھا اور آیا اس نیٹ ورک میں مزید افراد بھی شامل ہیں۔ اگر مزید ملوث افراد یا اداروں کے شواہد ملے تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔

پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گوشت صرف معتبر اور لائسنس یافتہ دکانوں سے ہی خریدیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں