حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات کے سرحدی ضلع کچھ میں حالیہ دنوں نام نہاد انسدادِ تجاوزات (اینٹی انکروچمنٹ) مہم کے دوران مسلمانوں کی متعدد مذہبی، تجارتی اور رہائشی املاک کو مسمار کیے جانے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مقامی افراد اور سماجی تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ نے کئی مقامات پر قانونی طریقۂ کار اختیار کیے بغیر بلڈوزر کارروائیاں انجام دیں۔
اطلاعات کے مطابق اب تک تقریباً 30 تعمیرات منہدم کی جا چکی ہیں، جن میں تین مساجد، متعدد مزارات، 17 تجارتی عمارتیں اور دو رہائشی مکانات شامل ہیں۔
سب سے زیادہ توجہ گاندھی دھام تعلقہ میں واقع جونا کنڈلا مسجد کی مسماری نے حاصل کی، جسے اتوار کی شب منہدم کر دیا گیا۔ مسجد کمیٹی کے مطابق یہ مسجد 1965 سے گجرات اسٹیٹ وقف بورڈ کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ تھی۔ مسجد کمیٹی کے صدر محمد سمر نے الزام لگایا کہ مسجد کو بغیر کسی پیشگی نوٹس کے منہدم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب انتظامی کمیٹی کے ارکان موقع پر پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے تو پولیس اور انتظامیہ نے انہیں مسجد تک جانے کی اجازت نہیں دی۔
ادھر جمعیۃ علماء ہند نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے سیکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک حقائق معلوم کرنے والا وفد متاثرہ علاقوں میں بھیجا۔ وفد نے مقامی باشندوں، مسجد کمیٹی کے ذمہ داران اور دیگر متاثرین سے ملاقات کر کے صورتحال کا جائزہ لیا اور قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کی۔
جمعیۃ کے ابتدائی جائزے کے مطابق اب تک تقریباً 30 تعمیرات منہدم کی جا چکی ہیں، جن میں 11 مذہبی مقامات بھی شامل ہیں۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ انہدامی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے 25 مسلم نوجوانوں کو بھی گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں عدالت سے رجوع کرے گی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اچانک انہدامی کارروائیاں کس قانونی بنیاد پر انجام دی گئیں۔
دوسری جانب گجرات حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ریاست کی “زیرو ٹالرنس پالیسی” کے تحت غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ بعض مقامات پر انتظامیہ نے ہندوستان-پاکستان سرحد سے قربت کو بھی کارروائی کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔
مقامی سماجی کارکن محسن علی محمد ہنگوراجا نے الزام لگایا کہ نانا ورنورہ گاؤں میں 7 جون کو 9 مسلم مکانات اور 21 دکانیں مسمار کی گئیں اور بعد ازاں کئی بے قصور افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا، حالانکہ ان کا کسی جھڑپ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
آل کچھ مسلم سماج نے بھی ضلعی انتظامیہ کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہدامی کارروائیوں اور پولیس کریک ڈاؤن میں روزانہ مزدوری کرنے والے افراد حتیٰ کہ ذہنی معذور بچوں تک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
تنظیم نے اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی، متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ اور بلڈوزر کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر متاثرہ افراد نے گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس کے بعد عدالت نے ابتدائی سماعت کے دوران متعلقہ فریقین کا مؤقف سنے بغیر مزید انہدامی کارروائیوں پر عارضی روک لگانے کی ہدایت دی۔ تاہم مقامی افراد کا الزام ہے کہ اس کے باوجود بعد میں مزید تعمیرات بھی مسمار کر دی گئیں۔
متاثرین اور سماجی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ آئینی اور جمہوری طریقے سے پرامن احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔


