حیدرآباد (دکن فائلز) میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر حیدرآباد کے معروف سابق آئی پی ایس افسر اے کے خان کے بیٹے اور کانگریس کے سینئر رہنما محمد علی شبیر کے داماد محسن خان کے خلاف فلم ساز سے مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی اور تشدد کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے نے حیدرآباد کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔
پولیس کے مطابق فلم پروڈیوسر ونکٹ انیش ریڈی نے شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ گزشتہ دو برسوں سے اپنی فلم “مہاراگنی” پر کام کر رہے ہیں اور فلم کی تکمیل کے لیے سرمایہ کاروں کی تلاش میں تھے۔ اسی دوران ان کی ملاقات جوبلی ہلز کے پرشاسن نگر میں واقع سن لِٹ گروپ کے دفتر میں محسن خان اور ان کے رشتہ دار تبریز سے ہوئی۔
شکایت کے مطابق محسن خان نے انہیں یقین دلایا کہ وہ بڑے سرمایہ کاروں سے ملاقات کروا سکتے ہیں۔ اس یقین دہانی پر فلم ساز نے اگست 2025 میں محسن خان کو 25 لاکھ روپے دیے، جبکہ اسی مقصد کے لیے تبریز کو بھی تین قسطوں میں مزید 25 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔
فلم ساز کا کہنا ہے کہ دونوں افراد نے نہ تو کسی سرمایہ کار سے ملاقات کرائی اور نہ ہی رقم واپس کی۔ ہر بار مختلف بہانے بنا کر معاملہ ٹالتے رہے۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ یکم جولائی کو جب وہ اپنی رقم واپس لینے یا سرمایہ کاروں سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرنے محسن خان کے دفتر پہنچے تو محسن خان انہیں اندر لے گئے اور مبینہ طور پر ان کے جبڑے پر زور دار مکا مارا۔ اس کے بعد وہاں موجود باؤنسرز نے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
فلم ساز نے الزام لگایا کہ اس دوران تبریز مسلسل فون پر محسن خان سے رابطے میں تھے اور حملے کے دوران محسن خان نے دھمکی دیتے ہوئے کہا لپ “پیسے مانگتے ہو؟ اب دیکھتے ہیں تم کیا کر لیتے ہو۔”
پولیس نے شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات، جن میں دھوکہ دہی، حملہ، مجرمانہ دھمکی اور مشترکہ سازش شامل ہیں، کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔


