ایس آئی آر آئین، جمہوریت اور شہری حقوق کے لیے سنگین خطرہ! مسلمانوں کو غیر معمولی احتیاط برتنے کی ضرورت: مولانا ارشد مدنی

حیدرآباد (دکن فائلز) جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے موجودہ عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ووٹر لسٹوں کی نظرثانی نہیں بلکہ آئین، جمہوریت اور شہری آزادیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حقِ رائے دہی کو سرکاری صوابدید سے مشروط کر دیا جائے تو یہ ہندوستان کے جمہوری نظام کے لیے انتہائی تشویشناک رجحان ہوگا۔

بدھ کے روز جاری اپنے تفصیلی بیان میں مولانا مدنی نے کہا کہ ماضی میں بھی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی ہوتی رہی ہے، لیکن موجودہ ایس آئی آر اپنے طریقۂ کار، دائرۂ کار اور ممکنہ نتائج کے اعتبار سے پہلے کے تمام عمل سے مختلف نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں شہری سرکاری دفاتر کے چکر لگانے، متعدد دستاویزات جمع کرانے اور شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس کے باوجود انہیں یہ یقین دہانی حاصل نہیں کہ ان کے نام ووٹر لسٹ میں برقرار رہیں گے۔

مولانا مدنی نے یاد دلایا کہ جمعیۃ علمائے ہند نے ابتدا ہی سے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ موجودہ ایس آئی آر دراصل این آر سی کی نئی شکل ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق مختلف ریاستوں سے موصول ہونے والی اطلاعات ان خدشات کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے، نہ کہ شہریوں کی شہریت کا تعین کرنا۔ اگر ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنا عملاً کسی شخص کی شہریت پر سوالیہ نشان بن جائے تو یہ آئینی حدود سے تجاوز ہوگا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر کی آڑ میں حقیقی شہریوں کو ان کے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور بعض ریاستوں میں مسلمانوں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مغربی بنگال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریباً 27 لاکھ ووٹروں کو “مشکوک” قرار دینا اور ان کے ووٹ کے حق پر سوال اٹھانا جمہوریت پر ایک سنگین داغ ہے۔ ان کے مطابق دستیاب اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرین میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جس سے پورے عمل کی غیرجانبداری پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

مولانا مدنی نے مسلمانوں سمیت تمام شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ مکمل قانونی آگاہی اور احتیاط کے ساتھ تمام مطلوبہ دستاویزات پہلے سے تیار رکھیں اور کوئی بھی فارم جلد بازی یا لاپروائی میں جمع نہ کریں، کیونکہ معمولی تکنیکی غلطی بھی بعد میں سنگین قانونی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ جمعیۃ علمائے ہند اپنے رضاکاروں، وکلا اور قانونی ماہرین کے ذریعے ملک بھر میں عوام کو رہنمائی، دستاویزات کی جانچ اور قانونی امداد فراہم کرتی رہے گی تاکہ کوئی بھی شہری ناواقفیت یا تکنیکی خامیوں کے باعث اپنے آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم نہ ہو۔

مولانا مدنی نے مزید کہا کہ یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی یہ نظرثانی صرف انتخابی فہرستوں کی اصلاح تک محدود نہیں بلکہ بعض حلقوں میں اسے مسلم ووٹروں کے انتخابی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے آسام میں این آر سی کے دوران جمعیۃ علمائے ہند کی قانونی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت لاکھوں ہندو اور مسلم خاندانوں کو قانونی مدد فراہم کی گئی تھی اور بے شمار ہندوستانی شہریوں کو غلط طور پر غیر ملکی قرار دیے جانے سے بچایا گیا تھا۔

انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عدالت عظمیٰ آئین کی بالادستی، شہریوں کے بنیادی حقوق اور انتخابی عمل کی شفافیت کے تحفظ کے لیے مؤثر رہنمائی فراہم کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں