بڑی خبر: سپریم کورٹ نے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مبینہ توہین آمیز تبصروں پر فوری سماعت سے انکار کیا، پہلے قانونی طریقۂ کار اختیار کرنے کی ہدایت (تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا انفلوئنسر مرتد نازیہ الٰہی خان کی جانب سے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مبینہ توہین آمیز تبصروں کے معاملے میں دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر فوری سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت دی ہے کہ وہ پہلے متعلقہ پولیس اور دیگر مجاز حکام سے رجوع کریں اور قانون کے طے شدہ طریقۂ کار پر اعتماد رکھیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر قانونی ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو اس کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

یہ معاملہ جسٹس احسان الدین امان اللہ اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل تعطیلاتی بنچ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں ایڈووکیٹ رجت کمار نے درخواست گزار ایڈووکیٹ آن ریکارڈ انصار احمد چودھری کی جانب سے فوری سماعت کی استدعا کی۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مبینہ توہین آمیز بیانات سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے عدالت کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔

عدالت نے کیا کہا؟
سماعت کے دوران جسٹس احسان الدین امان اللہ نے استفسار کیا کہ آیا اس معاملے میں متعلقہ پولیس کے پاس شکایت درج کرائی گئی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاملہ براہِ راست سپریم کورٹ لانے کے بجائے پہلے ان اداروں کو اپنا فرض ادا کرنے کا موقع دینا چاہیے جنہیں قانون نے اس مقصد کے لیے ذمہ دار بنایا ہے۔

عدالت نے کہاکہ “پولیس موجود ہے، ہمارے نظام پر اعتماد رکھیں۔ سپریم کورٹ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے، ہمارا کام نگرانی کرنا ہے۔ اگر ہر معاملہ سیدھا یہاں آئے گا تو دوسرے ادارے بھی اپنی ذمہ داری سے ہاتھ کھڑے کر دیں گے۔” بنچ نے مزید کہا کہ اگر قانونی طریقۂ کار اختیار کرنے کے باوجود مناسب کارروائی نہ ہو تو متاثرہ فریق دوبارہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کر سکتا ہے۔

“معاملے کو سنسنی خیز نہ بنائیں”
جسٹس امان اللہ نے اس معاملے کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں جذبات کے ساتھ ساتھ قانون کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے، لیکن قانونی طریقۂ کار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہاکہ “آپ پہلے ایک ہندوستانی شہری ہیں، پھر وکیل بھی ہیں۔ ایسے حساس معاملات کے نتائج کو سمجھیں اور انہیں غیر ضروری طور پر سنسنی خیز نہ بنائیں۔ اگر کسی ایک شخص نے غلطی کی ہے تو قانون کی پوری طاقت کے ساتھ اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔”

معاملہ کیا ہے؟
رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا انفلوئنسر نازیہ الٰہی خان نے جون 2026 میں ایک پوڈکاسٹ کے دوران حضرت محمد ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ کے بارے میں مبینہ طور پر توہین آمیز ریمارکس کیے تھے۔ ان بیانات کے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مختلف ریاستوں میں ان کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئیں اور مختلف مذہبی و سماجی حلقوں نے ان پر شدید اعتراضات کا اظہار کیا۔

عرضی میں کیا مطالبات کیے گئے؟
درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مذہبی شخصیات اور مقدس ہستیوں کے خلاف توہین آمیز اور اشتعال انگیز مواد کی اشاعت، تشہیر اور گردش روکنے کے لیے جامع رہنما اصول وضع کیے جائیں۔

عرضی میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ مرکزی حکومت، وزارت داخلہ، وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس (سابق ٹوئٹر) کو پابند کیا جائے کہ وہ ایسے مواد کو فوری طور پر ہٹائیں جو مذہبی جذبات مجروح کرنے یا معاشرے میں نفرت و انتشار پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہو۔

پیغمبرِ اسلام ﷺ سے مسلمانوں کی محبت
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ محترم اور مقدس ہے۔ مسلمان آپ ﷺ سے اپنی جان، مال، اولاد اور دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر محبت رکھتے ہیں۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کی تعظیم، ادب اور محبت کو ایمان کا بنیادی تقاضا قرار دیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی یا توہین آمیز گفتگو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید مجروح کرتی ہے اور امتِ مسلمہ اسے انتہائی حساس معاملہ تصور کرتی ہے۔

علمائے کرام مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ایسے حساس معاملات میں قانون کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے، صبر، حکمت اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے اور ہر قسم کے ردِعمل کو آئین اور قانون کے دائرے میں رکھتے ہوئے ذمہ دار اداروں سے انصاف کا مطالبہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں