حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں جاری خصوصی ووٹر نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مختلف اضلاع، خصوصاً حیدرآباد اور گریٹر حیدرآباد کے کئی علاقوں سے اینومریشن فارم کی تقسیم میں تاخیر، بوتھ لیول افسران (BLOs) کی عدم دستیابی، ہیلپ ڈیسک کی ناقص کارکردگی اور دیگر انتظامی مسائل کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ دوسری جانب ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) نے واضح کیا ہے کہ یہ عمل انتخابی فہرستوں کو زیادہ درست اور شفاف بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور تمام اہل ووٹروں سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 25 جون سے 24 جولائی تک گھر گھر جا کر اینومریشن فارم تقسیم اور جمع کیے جا رہے ہیں، جبکہ 31 جولائی کو ابتدائی ووٹر لسٹ (Draft Roll) جاری ہوگی، جس کے بعد دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔ حتمی ووٹر فہرست یکم اکتوبر کو شائع کی جائے گی۔
شہریوں کی اہم شکایات:
متعدد علاقوں سے درج ذیل شکایات سامنے آئی ہیں:
* کئی ووٹروں کو ابھی تک اینومریشن فارم موصول نہیں ہوئے۔
* بعض گھروں میں صرف ایک فرد کو فارم دیا گیا جبکہ دیگر اہل خانہ کو فارم نہیں ملا۔
* کچھ مقامات پر فارم تقسیم کیے بغیر ہی ایپ میں اسکین کر کے تقسیم مکمل ہونے کی رپورٹ تیار کیے جانے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
* کئی بوتھ لیول افسران فون کالز کا جواب نہیں دے رہے یا ان کے فون بند مل رہے ہیں۔
* فارم نمبر 8 طلب کرنے والے ووٹروں کو بعض جگہوں پر “فارم دستیاب نہیں” بتایا جا رہا ہے۔
* مختلف سرکاری ہیلپ ڈیسک پر شہریوں کو مناسب رہنمائی نہ ملنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
اگرچہ ان تمام شکایات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ان کے باعث عوام میں تشویش ضرور پیدا ہوئی ہے۔
الیکشن کمیشن کی ہدایات کیا ہیں؟
چیف الیکٹورل آفیسر سی سدرشن ریڈی کے مطابق:
* ہر ووٹر کو اینومریشن فارم فراہم کیا جانا ہے۔
* اگر گھر بند ملے تو BLO کم از کم تین مرتبہ دوبارہ جائے گا۔
* فارم آن لائن بھی جمع کرایا جا سکتا ہے لیکن بعد میں فیلڈ ویریفکیشن ہوگی۔
* 2002 کی ووٹر لسٹ سے متعلق ریکارڈ تلاش کرنے میں بھی BLO شہریوں کی مدد کریں گے۔
* اگر کسی وجہ سے فارم مقررہ مدت میں جمع نہ ہو سکے تو بعد کے مرحلے میں بھی دعوے اور اعتراضات کے دوران قانونی طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔
2002 کے ووٹر ریکارڈ کی پریشانی
بہت سے شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان یا ان کے والدین کا نام 2002 کی ووٹر لسٹ میں کہاں درج تھا۔ اس حوالے سے بعض ہیلپ ڈیسک مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کر پا رہے، جبکہ الیکشن حکام نے شہریوں کو متعلقہ انتخابی دفاتر یا BLO سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
فارم نہ ملا تو کیا کریں؟
اگر آپ کو ابھی تک اینومریشن فارم موصول نہیں ہوا تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ فوری طور پر یہ اقدامات کریں:
* اپنے متعلقہ بوتھ لیول آفیسر (BLO) سے رابطہ کریں۔
* الیکشن رجسٹریشن آفیسر (ERO) یا اسسٹنٹ الیکشن رجسٹریشن آفیسر (AERO) کے دفتر جائیں۔
* قریبی SIR ہیلپ ڈیسک سے معلومات حاصل کریں۔
* ضرورت پڑنے پر تحریری شکایت درج کروائیں۔
* اگر BLO گھر نہ آئے تو اس کی اطلاع متعلقہ انتخابی دفتر کو دیں۔
* آن لائن دستیاب سہولیات سے بھی فارم کی معلومات حاصل کریں۔
کیا فارم نہ ملنے سے ووٹ ختم ہو جائے گا؟
ماہرین کے مطابق ضروری نہیں کہ فارم نہ ملنے سے ووٹ خود بخود ختم ہو جائے، تاہم اگر شہری بروقت کارروائی نہ کریں تو ان کا نام ابتدائی فہرست میں شامل نہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے الیکشن حکام نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ 24 جولائی سے پہلے فارم ضرور جمع کرائیں یا متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔ بعد ازاں دعوے اور اعتراضات کا مرحلہ بھی موجود ہوگا، جہاں ضروری اصلاحات کرائی جا سکتی ہیں۔
عوام کے لیے اہم پیغام
جمہوریت کی بنیاد عوام کا ووٹ ہے۔ اس لیے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ:
* اپنے اور اپنے خاندان کے تمام افراد کے ووٹر ریکارڈ کی جانچ کرے۔
* فارم نہ ملنے پر خاموش نہ رہے۔
* صرف زبانی یقین دہانی پر اکتفا نہ کرے۔
* اپنی شکایت تحریری طور پر درج کرائے۔
* ابتدائی ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد اپنا نام ضرور چیک کرے۔
* بزرگوں، خواتین اور کم تعلیم یافتہ افراد کی بھی رہنمائی کرے تاکہ کوئی اہل شہری حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہ جائے۔
ووٹ صرف ایک آئینی حق ہی نہیں بلکہ جمہوری ذمہ داری بھی ہے۔ بروقت معلومات حاصل کریں، اپنی تفصیلات کی تصدیق کریں اور انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لے کر اپنے ووٹ کا تحفظ یقینی بنائیں۔


