“کیا تم مسلمان ہو؟” صرف اسلام کی وجہ سے ہندوستانی مسلم نوجوان پر 15 چاقو کے وار، امریکہ میں نفرت انگیز حملے نے انسانیت کو جھنجھوڑ دیا، درندہ صفت شدت پسند گرفتار

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ کی ریاست یوٹاہ میں اسلاموفوبیا کا ایک نہایت ہولناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ہندوستانی نژاد مسلمان نوجوان سہیل کو صرف اس لیے بے رحمی سے چاقو کے پندرہ سے زائد وار کرکے قتل کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ مسلمان تھا۔ اس افسوسناک واقعہ نے ایک بار پھر امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرائم (Hate Crimes) پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پولیس کے مطابق 48 سالہ پیٹر مائیکل لارسن (Peter Michael Larsen) نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے جان بوجھ کر مسلمان شخص کو نشانہ بنایا کیونکہ وہ مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم نے تفتیش کاروں کو بتایا:

“میں مسلمانوں کو قتل کرنا چاہتا ہوں۔” یہ بیان اس حملے کو محض ایک مجرمانہ واقعہ نہیں بلکہ مذہبی نفرت پر مبنی انتہائی سنگین جرم قرار دیتا ہے۔

“کیا تم مسلمان ہو؟” رپورٹس کے مطابق پیر کے روز ویسٹ ویلی سٹی کے ویلی فیئر مال (Valley Fair Mall) میں سہیل اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ اسی دوران ملزم ان کے پاس آیا اور بظاہر دوستانہ انداز میں بات چیت شروع کی۔ قریب ہی موجود جیولری اسٹور میں کام کرنے والی لونا نونیز نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ملزم نے پہلے سہیل سے پوچھا، “تم کہاں سے ہو؟”

سہیل نے جواب دیا، “میں انڈیا سے ہوں، میرا نام سہیل ہے۔”، اس کے بعد ملزم نے دوسرا سوال کیاکہ “کیا تم مسلمان ہو؟”، جب سہیل نے جواب دیا کہ “ہاں، میں مسلمان ہوں” تو ملزم نے اچانک چاقو نکال کر ان پر مسلسل وار کرنا شروع کر دیے۔

یوٹاہ اسلامک سینٹر کے امام شعیب دین کے مطابق حملہ آور نے پہلے سہیل سے پانی کی بوتل مانگی۔ جیسے ہی سہیل پانی لینے کے لیے مڑے، ملزم نے پیچھے سے چاقو نکال کر ان پر پے در پے حملہ کر دیا۔ متاثرہ نوجوان کے دوستوں کی جانب سے شروع کیے گئے GoFundMe فنڈ ریزر کے مطابق سہیل کے جسم پر 15 سے زائد چاقو کے وار کیے گئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی کئی سرجریاں ہو چکی ہیں، تاہم وہ اب بھی انتہائی تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔

پولیس کے پہنچنے سے پہلے شاپنگ مال میں موجود کئی افراد نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو میں کر لیا۔ انہوں نے ملزم کو زمین پر گرا کر اس وقت تک پکڑے رکھا جب تک پولیس موقع پر نہیں پہنچ گئی، جس کی وجہ سے مزید جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔

پولیس نے بعد میں ملزم کو گرفتار کرکے اس کے خلاف قتل کی کوشش اور مہلک ہتھیار کے غیر قانونی استعمال سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ تحقیقات کے مطابق پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عوام کے لیے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس کے نظریات انتہاپسندانہ ہیں اور وہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی رکھتا تھا۔

سہیل کے ساتھیوں کے مطابق وہ انتہائی محنتی، خوش اخلاق اور ذمہ دار انسان ہیں۔ ان کی ساتھی لونا نونیز نے بتایاکہ “سہیل کے پاس ہیلتھ انشورنس بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے پورے خاندان کا واحد کفیل ہے۔ اس کی بیوی اور دو چھوٹے بچے ہیں، اور گھر میں کمانے والا صرف وہی ہے۔”

سہیل کے منیجر عدنان محمد نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ “یہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل برداشت نفرت انگیز جرم ہے۔ ہمارے معاشرے میں نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔” انہوں نے مزید کہاکہ “سہیل ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا، سخت محنت کرتا تھا۔ میں نے اس کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اسے منیجر بنایا تھا۔ جب آپ ایک انسان کو نشانہ بناتے ہیں تو صرف ایک شخص متاثر نہیں ہوتا بلکہ ایک پورا خاندان تباہ ہو جاتا ہے۔”

بعد میں ایک اور انٹرویو میں انہوں نے رنجیدہ لہجے میں کہاکہ “کاش میں وہاں موجود ہوتا، میں اپنی جان دے کر بھی سہیل کو بچا لیتا۔” عینی شاہد: “میں نے جو ہاتھ آیا، وہ پھینکا”، واقعے کی عینی شاہد لونا نونیز نے بتایا کہ حملہ آور بے رحمی سے مسلسل چاقو مار رہا تھا۔

انہوں نے کہاکہ “میں نے جوتے، کرسی، جو بھی ہاتھ آیا اس پر پھینکا تاکہ وہ رک جائے، لیکن وہ انتہائی سفاکی سے وار کرتا رہا۔ مجھے لگا سہیل شاید زندہ نہیں بچ پائے گا۔” انہوں نے مزید بتایا کہ بعد میں معلوم ہوا کہ حملہ آور مال میں گھوم گھوم کر مختلف لوگوں سے ان کے مذہب کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔

شہری حقوق کی متعدد تنظیمیں پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ امریکہ میں حالیہ برسوں کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین اس رجحان کی وجوہات میں اسلام مخالف بیانات، تارکین وطن کے خلاف نفرت انگیز مہمات، سفید فام انتہاپسندی اور غزہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو بھی شامل کرتے ہیں۔

مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کو واضح طور پر اسلاموفوبیا پر مبنی نفرت انگیز جرم قرار دے کر ملزم کو سخت ترین سزا دی جائے تاکہ مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔

یہ واقعہ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ مذہبی تعصب اور نفرت انسانیت کو کس قدر خطرناک راستے پر لے جا سکتے ہیں۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں کے درمیان احترام، رواداری اور باہمی اعتماد ہی ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کا واحد راستہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں