حیدرآباد (دکن فائلز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ملک کی مختلف ریاستوں میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے تناظر میں ایک نہایت اہم اور دردمندانہ اپیل جاری کرتے ہوئے تمام ووٹروں، خصوصاً مسلم برادری سے کہا ہے کہ وہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں پوری ذمہ داری کے ساتھ حصہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا اور ان کے اہل خانہ کا نام انتخابی فہرست میں صحیح طور پر درج ہو۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ حقِ رائے دہی ایک اہم آئینی حق اور جمہوری امانت ہے، جس کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی شخص کو لاپروائی، غفلت یا معلومات کی کمی کی وجہ سے اپنے اس بنیادی حق سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے، وہاں ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ:
* اپنے اور اپنے اہل خانہ کے نام ووٹر لسٹ میں ضرور چیک کرے۔
* اگر بوتھ لیول آفیسر (BLO) یا انتخابی عملہ معلومات یا دستاویزات طلب کرے تو فوری تعاون کرے۔
* اگر کوئی نوٹس موصول ہو تو اسے ہرگز نظر انداز نہ کرے بلکہ مقررہ وقت کے اندر مطلوبہ وضاحت اور دستاویزات جمع کرائے۔
* اپنے محلے، مسجد، مدرسہ اور سماجی تنظیموں کے ذریعے دوسروں کو بھی اس عمل کے بارے میں آگاہ کرے۔
مولانا نے کہا کہ صرف اپنا نام برقرار رکھنا کافی نہیں بلکہ نوجوانوں، خواتین، بزرگوں اور ہر اہل ووٹر کا نام بھی انتخابی فہرست میں موجود ہونا چاہیے۔ انہوں نے سماجی کارکنوں، ائمہ مساجد، علماء، ملی تنظیموں اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں شعور بیداری مہم چلائیں تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ووٹ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ووٹ صرف ایک کاغذی اندراج نہیں بلکہ جمہوری نظام میں شہری کی آواز، نمائندگی اور آئینی حقوق کا تحفظ ہے۔ اگر کوئی اہل شہری ووٹر لسٹ سے باہر رہ جاتا ہے تو وہ اپنی نمائندگی کے ایک بنیادی حق سے محروم ہو سکتا ہے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے آخر میں تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ جذبات یا افواہوں کے بجائے قانونی اور آئینی طریقہ اختیار کریں، انتخابی حکام سے تعاون کریں، مطلوبہ کارروائی بروقت مکمل کریں اور اپنے اس اہم جمہوری حق کے تحفظ کے لیے پوری ذمہ داری کے ساتھ ایس آئی آر کے عمل میں شریک ہوں۔


