تلنگانہ: میدک میں پارکنگ تنازعہ پر مسلم خاندان پر حملے کا الزام، یکطرفہ پولیس کارروائی کا دعویٰ، امجد اللہ خان نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے ضلع میدک کے کلچرم منڈل کے پوتھم شیٹی پلی گاؤں میں ایک مسلم خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ پارکنگ کے معمولی تنازع کے بعد ان کے پڑوسیوں نے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مسلح افراد کے ساتھ ان کے گھر پر حملہ کیا، تاہم پولیس نے مبینہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے صرف ان کے رشتہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا۔

متاثرہ خاندان کے مطابق محمد خواجہ رشید الدین اور ان کی اہلیہ صالحہ بیگم گزشتہ تقریباً بیس برسوں سے اسی گاؤں میں مقیم ہیں۔ خاندان کے مطابق ان کی بیٹی ترنم اپنے شوہر محمد عارف اور دیور محمد سلیم کے ساتھ بولیرو گاڑی میں والدین سے ملاقات کے لیے آئی تھیں۔ گاڑی گھر کے باہر کھڑی کرنے پر پڑوسی کومولا ریونت گوڑ نے اعتراض کیا۔

خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے گاڑی جلد ہٹانے کی یقین دہانی کرائی، مگر اس کے باوجود ریونت گوڑ نے مبینہ طور پر بدزبانی اور دھمکیاں دیں۔ بعد ازاں کومولا رمیش گوڑ اور ان کی اہلیہ کومولا رادھا بھی موقع پر پہنچ گئے، جس کے بعد تلخ کلامی ہوئی۔ پولیس کے مداخلت کرنے پر گاڑی ہٹا دی گئی اور معاملہ وقتی طور پر ختم ہو گیا۔

خاندان کا الزام ہے کہ تقریباً 30 سے 45 منٹ بعد رمیش گوڑ، ریونت گوڑ اور ان کے متعدد رشتہ دار و ساتھی لاٹھیوں اور دیگر ہتھیاروں کے ساتھ دوبارہ آئے اور گھر کو چاروں طرف سے گھیر کر حملہ کر دیا۔ متاثرہ خاندان کے مطابق حملہ آوروں نے گھر کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ دیں، جبکہ محمد خواجہ رشید الدین، صالحہ بیگم، ترنم اور ان کے کمسن بیٹے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

خاندان نے یہ بھی الزام لگایا کہ یہ حملہ پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں ہوا۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ حملے کے باوجود پولیس نے مبینہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی نہیں کی بلکہ صرف محمد عارف اور محمد سلیم کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا اور عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا۔

مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان نے کہا کہ انہوں نے متاثرہ خاندان اور میدک ضلع کے سینئر پولیس حکام سے بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کلچرم پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر کو تحریری شکایت دے کر تمام مبینہ حملہ آوروں کے خلاف کاؤنٹر کیس درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امجد اللہ خان نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی، تلنگانہ کے ڈی جی پی اور ضلع میدک کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور منصفانہ تحقیقات کرائی جائیں، تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

تاہم خبر لکھے جانے تک پولیس کی جانب سے خاندان کے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا، اور ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں