حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران انتخابی فہرستوں کی بڑے پیمانے پر جانچ میں حیران کن انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ ریاستی انتخابی حکام کے مطابق اب تک تقریباً 88 لاکھ بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہو چکی ہے، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گنتی اور ڈیجیٹل تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک یہ تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے۔
ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) سی سدرشن ریڈی کے مطابق ان بے ضابطگیوں کی اکثریت شہری علاقوں میں سامنے آئی ہے، جس کی وجہ سے حیدرآباد، سائبرآباد اور رنگاریڈی جیسے شہروں میں بڑی تعداد میں ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ نوٹس ووٹر کا نام حذف کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی معلومات کی تصدیق کے لیے جاری کیے جائیں گے۔ اگر کوئی ووٹر مقررہ وقت میں مطلوبہ معلومات یا وضاحت فراہم نہیں کرتا تو اس کے اندراج پر مزید کارروائی ہو سکتی ہے۔
ایس آئی آر کیا ہے؟
اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ایک خصوصی مہم ہے، جس کا مقصد انتخابی فہرستوں کو درست، شفاف اور تازہ بنانا ہے تاکہ:
* فوت شدہ افراد کے نام ہٹائے جائیں۔
* ایک سے زیادہ مقامات پر درج ناموں کی نشاندہی کی جائے۔
* غلط یا فرضی اندراجات ختم کیے جائیں۔
* نئے اہل ووٹروں کو شامل کیا جائے۔
* ہر ووٹر کی معلومات کو درست اور تازہ کیا جائے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد کسی بھی اہل شہری کا حقِ رائے دہی چھیننا نہیں بلکہ انتخابی فہرستوں کو زیادہ شفاف اور درست بنانا ہے۔
کن بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے؟
انتخابی حکام مختلف اقسام کی تکنیکی اور ریکارڈ سے متعلق بے ضابطگیوں کی جانچ کر رہے ہیں، جن میں اہم درج ذیل ہیں:
* ووٹر کا نام اور خاندانی ریکارڈ میں مطابقت نہ ہونا۔
* والد یا والدہ اور ووٹر کے درمیان عمر کا غیر معمولی فرق، مثلاً والدین کی عمر میں 15 سال سے کم یا 50 سال سے زیادہ فرق۔
* دادا، دادی یا نانا، نانی اور ووٹر کے درمیان عمر کا غیر منطقی فرق۔
* 2002 کے انتخابی ریکارڈ میں ایک ہی ووٹر کے ساتھ غیر معمولی تعداد میں افراد کا اندراج۔
* بہن بھائیوں کی عمر میں غیر حقیقی فرق۔
* ایک ہی پتے پر غیر معمولی تعداد میں ووٹروں کا اندراج۔
* ایک شخص کا مختلف مقامات پر بطور ووٹر درج ہونا۔
* دیگر تکنیکی تضادات جو ڈیجیٹل جانچ کے دوران سامنے آئے ہیں۔
الیکشن حکام کے مطابق ایسی تمام اندراجات کو فوری طور پر حذف نہیں کیا جا رہا بلکہ ہر معاملے کی الگ سے جانچ کی جا رہی ہے۔
حیدرآباد میں صورتحال کیوں زیادہ حساس ہے؟
سی ای او سدرشن ریڈی کے مطابق شہری علاقوں میں مسلسل نقل مکانی، کرایہ داری، اپارٹمنٹ کلچر، مشترکہ رہائش اور برسوں پرانے ووٹر ریکارڈ کی وجہ سے سب سے زیادہ بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں۔ اسی لیے توقع کی جا رہی ہے کہ حیدرآباد میں لاکھوں ووٹروں کو وضاحت یا دستاویزات پیش کرنے کے لیے نوٹس موصول ہو سکتے ہیں۔
کن صورتوں میں دستاویزات مانگی جا سکتی ہیں؟
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ہر ووٹر سے دستاویزات طلب نہیں کیے جائیں گے۔
اگر کسی ووٹر کے ریکارڈ میں کوئی تضاد یا شبہ سامنے آتا ہے تو متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) یا بوتھ لیول آفیسر (BLO) وضاحت یا دستاویزات طلب کر سکتے ہیں۔
ایسی صورت میں درج ذیل دستاویزات کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں:
* آدھار کارڈ
* راشن کارڈ
* پاسپورٹ
* ڈرائیونگ لائسنس
* بجلی یا پانی کا بل
* بینک پاس بک
* پیدائش کا سرٹیفکیٹ
* تعلیمی اسناد
* دیگر سرکاری دستاویزات جن سے شناخت یا رہائش ثابت ہو سکے۔
اوڈیشہ ماڈل: پنچنامہ کے ذریعے تصدیق
جہاں اوڈیشہ میں بھی ایس آئی آر جاری ہے، وہاں بعض معاملات میں “پنچنامہ” کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت اگر کسی ووٹر کے ریکارڈ میں شبہ ہو اور فوری دستاویزات دستیاب نہ ہوں تو مقامی معتبر افراد یا پڑوسیوں کے دستخط اور تصدیق کی بنیاد پر بھی جانچ کی جا سکتی ہے۔ اس سے حقیقی ووٹروں کو غیر ضروری مشکلات سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈیجیٹائزیشن کی رفتار
تلنگانہ میں ایس آئی آر کے تحت فارموں کی ڈیجیٹائزیشن بھی جاری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں اب تک تقریباً 17.22 فیصد فارم ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیے جا چکے ہیں، تاہم اس رفتار کو مزید تیز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ نظرثانی کا عمل مقررہ وقت میں مکمل ہو سکے۔
عوام خصوصاً مسلمانوں کے لیے اہم پیغام
حالیہ دنوں میں ایس آئی آر کے حوالے سے مختلف افواہیں، سوشل میڈیا پوسٹس اور غیر مصدقہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں، جن کی وجہ سے کئی علاقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ عوام جذباتی ہونے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
اگر کسی ووٹر کو نوٹس موصول ہو تو:
* گھبرانے کے بجائے اسے سنجیدگی سے پڑھیں۔
* مقررہ تاریخ کے اندر جواب دیں۔
* اگر دستاویزات طلب کیے جائیں تو بروقت جمع کریں۔
* اپنے بوتھ لیول آفیسر (BLO) یا الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) سے رابطہ کریں۔
* اپنی ووٹر تفصیلات کی باقاعدہ جانچ کرتے رہیں۔
* خاندان کے تمام بالغ افراد کے نام ووٹر لسٹ میں موجود ہیں یا نہیں، اس کی بھی تصدیق کریں۔
جمہوری حق کے تحفظ کے لیے بیداری ضروری
حقِ رائے دہی ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ اس حق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ہر ووٹر اپنی انتخابی معلومات درست رکھے، سرکاری نوٹس کو نظر انداز نہ کرے اور کسی بھی افواہ پر یقین کرنے کے بجائے صرف الیکشن کمیشن یا متعلقہ انتخابی حکام کی مصدقہ معلومات پر اعتماد کرے۔
خاص طور پر شہری علاقوں اور اقلیتی آبادیوں میں رہنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندان، رشتہ داروں اور پڑوسیوں میں بھی اس حوالے سے بیداری پیدا کریں تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر صرف معلومات کی کمی یا لاپروائی کی وجہ سے اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔


