بڑی خبر: ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کا 24 جولائی کو دہلی میں انتہائی اہم اجلاس! موجودہ حالات، یو سی سی، وقف، بلڈوزر کارروائیوں اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر غور و خوض

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک میں مسلمانوں کو درپیش آئینی، سماجی، مذہبی اور سیاسی مسائل کے تناظر میں 24 جولائی 2026 کو قومی دارالحکومت نئی دہلی میں ممتاز مسلم مذہبی، سماجی اور سیاسی قیادت کا ایک اہم قومی کنونشن منعقد ہونے جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران ہونے والے اس اجتماع کو موجودہ حالات میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ اس میں مسلمانوں کو درپیش مختلف چیلنجز، آئینی حقوق کے تحفظ، سیاسی نمائندگی، یکساں سول کوڈ (UCC)، وقف سے متعلق امور، مساجد و مدارس کے خلاف بلڈوزر کارروائیوں اور دیگر اہم قومی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔

یہ کنونشن انڈین مسلم فار سول رائٹس کے زیر اہتمام منعقد ہو رہا ہے، جس کی قیادت سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد ادیب کر رہے ہیں۔ کنونشن کی تیاریوں کے سلسلے میں نئی دہلی کے نظام الدین میں آرگنائزنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایجنڈے، شرکاء، طریقۂ کار اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اس قومی کنونشن میں مختلف مکاتبِ فکر، ملی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

مدعو شخصیات میں سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی، سماج وادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی، عمران مسعود، سماج وادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ اقراء حسن، سابق رکنِ پارلیمنٹ دانش علی، سینئر صحافی شاہد صدیقی اور دیگر کئی مسلم سیاسی رہنما شامل ہیں۔

دینی و ملی قیادت کی جانب سے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی، جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی، جماعت اسلامی ہند کے امیر انجینئر سید سعادت اللہ حسینی، معروف عالم دین مولانا سجاد نعمانی، مولانا عبید اللہ خان اعظمی، اجمیر شریف درگاہ کے سجادہ نشین سرور چشتی، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، آل انڈیا ملی کونسل، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور دیگر اہم تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں مسلمانوں کو درپیش متعدد اہم قومی اور آئینی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی، جن میں:
* یکساں سول کوڈ (UCC)
* وقف املاک اور وقف سے متعلق قوانین
* مختلف ریاستوں میں مساجد اور مدارس کے خلاف بلڈوزر کارروائیاں
* مذہبی آزادی اور آئینی حقوق
* مبینہ ہجومی تشدد (Mob Lynching)
* اقلیتوں کی سلامتی
* تعلیم اور تعلیمی اداروں سے متعلق مسائل
* سیاسی نمائندگی اور جمہوری شمولیت
* نوجوانوں اور خواتین کی قیادت
* موجودہ سماجی و سیاسی حالات

منتظمین کے مطابق اجلاس کا بنیادی مقصد مختلف مسلم تنظیموں اور سیاسی قیادت کے درمیان مشترکہ لائحۂ عمل، باہمی رابطے اور آئینی جدوجہد کو مضبوط بنانا ہے۔

بعض میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اجلاس میں اس سوال پر بھی بحث ہو سکتی ہے کہ اگر مسلمانوں کے بنیادی آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور انصاف سے متعلق مطالبات مسلسل نظر انداز ہوتے رہے تو کیا مستقبل میں عدم تعاون تحریک (Non-Cooperation Movement) یا انتخابی بائیکاٹ جیسے اقدامات پر غور کیا جانا چاہیے۔

تاہم اب تک منتظمین کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ایجنڈا یا فیصلہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے اس موضوع کو فی الحال میڈیا رپورٹس اور ممکنہ بحث کے تناظر میں ہی دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ اجلاس کے طے شدہ فیصلے کے طور پر۔

یہ کنونشن ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس بھی جاری ہوگا اور متعدد اہم قومی معاملات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس اجتماع میں پارلیمنٹ میں موجود مسلم ارکانِ پارلیمنٹ کے کردار، مختلف بلوں پر مشترکہ موقف، آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی و پارلیمانی حکمت عملی، عوامی بیداری مہم اور جمہوری طریقۂ کار کے ذریعے مسائل کو اجاگر کرنے جیسے امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی امکان ہے کہ اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ قرارداد یا اعلامیہ جاری کیا جائے، جس میں آئینی حقوق، مذہبی آزادی، سماجی انصاف، تعلیم، وقف اور دیگر قومی مسائل پر مشترکہ مؤقف پیش کیا جائے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کنونشن کا مقصد کسی ایک سیاسی جماعت یا تنظیم کا پلیٹ فارم بنانا نہیں بلکہ مختلف مذہبی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی حلقوں کے درمیان مکالمہ، ہم آہنگی اور اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے تاکہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں مسلمانوں سے متعلق مختلف قومی معاملات پر یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم اجتماع ہوگا۔ اس لیے 24 جولائی کے اس کنونشن میں ہونے والی گفتگو، منظور کی جانے والی قراردادوں اور مستقبل کے لائحۂ عمل پر نہ صرف مسلم تنظیموں بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور حکومتی حلقوں کی بھی گہری نظر رہے گی۔

یہ کنونشن اس اعتبار سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ یہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران منعقد ہوگا، جہاں آئینی، قانونی اور عوامی اہمیت کے متعدد معاملات زیر بحث رہنے کی توقع ہے، اور اس اجلاس سے سامنے آنے والا مشترکہ مؤقف آئندہ سیاسی اور سماجی مباحث میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں