حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ حکومت کے سرکاری ملازمین کے پے رول نظام میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ڈیٹا کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ریاستی محکمہ خزانہ کی جانب سے ملازمین کے ریکارڈ کی جانچ کے دوران ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جہاں ایک ہی آدھار نمبر سے دو مختلف ملازمین کے نام پر تنخواہیں ادا ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ خزانہ نے 40 مشتبہ آدھار نمبروں سے منسلک تقریباً 80 ملازمین کے ریکارڈ کی نشاندہی کی ہے۔ بعض معاملات میں ایک ہی آدھار نمبر دو مختلف ناموں اور دو الگ سرکاری ملازمتوں کے ساتھ منسلک پایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب محکمہ خزانہ نے آئی ایف ایم آئی ایس میں موجود سرکاری ملازمین کے ریکارڈ کی جانچ کی۔ مختلف محکموں کے ملازمین کی شناختی تفصیلات کا موازنہ کرتے ہوئے حکام کو ایسے ریکارڈ ملے جن میں الگ الگ ناموں سے کام کرنے والے ملازمین ایک ہی آدھار نمبر کے ساتھ رجسٹرڈ تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک معاملے میں محکمہ محصولات سے وابستہ ایک اعلیٰ عہدیدار کو ماہانہ دو لاکھ روپے سے زیادہ جبکہ پولیس محکمہ کے ایک دوسرے ملازم کو ایک لاکھ روپے سے زیادہ تنخواہ مل رہی تھی، لیکن دونوں کے ریکارڈ میں ایک ہی آدھار نمبر درج تھا۔ مجموعی طور پر سامنے آنے والے ملازمین کی ماہانہ تنخواہیں تقریباً ایک لاکھ سے چار لاکھ روپے کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
ٹی وی 9 تلگو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ خزانہ نے اپریل سے جون تک تین ماہ کے پے رول ڈیٹا کا خصوصی جائزہ لیا۔ اس دوران 40 مشتبہ آدھار نمبروں سے تقریباً 80 ملازمین کے ریکارڈ سامنے آئے۔ بعض معاملات میں ایک ملازم کو ڈیڑھ لاکھ سے پانچ لاکھ روپے ماہانہ تک تنخواہ ادا کیے جانے کی بھی ابتدائی اطلاعات ہیں۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان تمام معاملات کو فوری طور پر جعلی ملازمت یا دانستہ فراڈ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ کچھ معاملات تکنیکی یا ڈیٹا انٹری کی غلطیوں کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں۔
ابتدائی طور پر ایسے معاملات پولیس، محکمہ محصولات، تعلیم، پنچایت راج اور صحت عامہ سمیت مختلف سرکاری محکموں میں سامنے آنے کی اطلاع ہے۔ اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایک ہی شخص یا ایک ہی شناختی تفصیل دو مختلف سرکاری ملازمتوں سے کیسے منسلک ہوئی اور اگر واقعی دو جگہوں سے تنخواہیں وصول کی گئیں تو پے رول نظام نے اسے بروقت کیوں نہیں پکڑا۔
حکام اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ محض ڈیٹا انٹری اور تکنیکی غلطی ہے یا کچھ افراد نے نظام کی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دانستہ طور پر دو سرکاری ملازمتوں سے تنخواہیں حاصل کیں۔ اگر تحقیقات میں جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرنے یا دوہری تنخواہ وصول کرنے کا ثبوت ملتا ہے تو غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقم کی وصولی کے ساتھ ذمہ دار افراد کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی بھی ممکن ہے۔
تلنگانہ کے چیف سیکریٹری سنجے جاجو نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو داخلی تحقیقات کرنے اور سات دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ تقرری، سروس ریکارڈ، آدھار اور پے رول کی جانچ کے مختلف مراحل میں کہاں خامی رہ گئی۔
حکومت کی تفصیلی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ان 80 ملازمین میں کتنے معاملات حقیقی دوہری ملازمت یا مالی بے ضابطگی سے متعلق ہیں، کتنے تکنیکی غلطیوں کا نتیجہ ہیں اور سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر کتنا نقصان پہنچا۔


