حیدرآباد (دکن فائلز) مذہبی اختلافات اور نفرت کی سیاست کے درمیان گجرات کے احمد آباد سے انسانیت، باہمی اعتماد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک قابل ذکر مثال سامنے آئی ہے، جہاں ایک ہندو اور ایک مسلم خاندان نے اپنے بیمار عزیزوں کی جان بچانے کے لیے ایک دوسرے کے خاندان کے فرد کو گردہ عطیہ کیا۔
احمد آباد کے ایک اسپتال میں ہونے والے اس نایاب انٹر فیتھ کڈنی سویپ ٹرانسپلانٹ میں ایک 45 سالہ ہندو شخص اور 42 سالہ مسلمان شخص کو گردے کی شدید بیماری کے باعث ٹرانسپلانٹ کی ضرورت تھی۔ دونوں کے اپنے خاندانوں میں براہ راست گردے کی مطابقت نہیں ہوسکی، جس کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان گردوں کے تبادلے کے ذریعے ٹرانسپلانٹ کا راستہ نکالا گیا۔
اس طریقہ کار میں ایک خاندان کی خاتون نے دوسرے خاندان کے مریض کو گردہ عطیہ کیا، جبکہ دوسرے خاندان کی خاتون نے پہلے خاندان کے مریض کے لیے اپنا گردہ عطیہ کیا۔ یوں دونوں خاندانوں نے مذہب کی حدوں سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کے عزیزوں کی زندگی بچانے کا فیصلہ کیا۔
اس واقعہ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب معاشرے میں مذہب کے نام پر فاصلے پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، اسی وقت عام انسان اپنی عملی زندگی میں یہ ثابت کررہے ہیں کہ انسانی زندگی کی کوئی مذہبی سرحد نہیں ہوتی۔ گردہ عطیہ کرنے جیسے فیصلے محض طبی عمل نہیں بلکہ اعتماد، ہمدردی اور غیر معمولی انسانی جذبے کا تقاضا کرتے ہیں۔
دونوں خاندانوں نے ایک دوسرے کے مریض کو اپنے خاندان کے فرد کی طرح سمجھ کر زندگی بچانے کا راستہ اختیار کیا۔ اسپتال نے بھی اس ٹرانسپلانٹ کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسانی ہمدردی کی ایک طاقتور مثال قرار دیا ہے۔
گجرات کے اس واقعے کا پیغام سیاسی نعروں سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ ایک طرف مذہب کے نام پر نفرت، شک اور تقسیم کی کوششیں جاری رہتی ہیں، تو دوسری طرف ایک ہندو خاتون ایک مسلمان شخص کی جان بچانے کے لیے اپنا گردہ دیتی ہے اور ایک مسلمان خاتون ایک ہندو شخص کی زندگی بچانے کے لیے اپنا گردہ عطیہ کرتی ہے۔
ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں ایسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ باہمی اعتماد اور بھائی چارہ آج بھی معاشرے کی مضبوط بنیاد ہے۔


