حیدرآباد (دکن فائلز) کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ صرف دھوکہ دہی نہیں بلکہ انسانی زندگی اور عوامی صحت کے ساتھ سنگین کھلواڑ ہے۔ مَلکاجگیری کے میڈی پلی علاقے میں پولیس کی کارروائی نے ایک بار پھر یہ تشویش ناک حقیقت سامنے لائی ہے کہ بعض عناصر چند روپے کے ناجائز منافع کے لیے ہزاروں صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مرچ پاؤڈر میں مبینہ طور پر 30 فیصد گائے کے گوبر کا پاوڈر ملا ہوا تھا اور جعلی پیکیجنگ اور لیبل اصلی برانڈز کی نقل کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ تاہم حتمیٰ رپورٹ کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ کیا سچ میں مرچ پاوڈر میں گائے کا گوبر ملایا جارہا تھا؟
مَلکاجگیری پولیس کی اسپیشل آپریشن ٹیم (SOT) اور فوڈ ایڈلٹریشن سرویلنس ٹیموں نے جمعرات، 20 اگست کو میڈی پلی کے سری نواس نگر کالونی میں واقع سائی ترو مالا انٹرپرائزز پر چھاپہ مار کر مبینہ طور پر ملاوٹ شدہ مصالحہ جات کی بڑی مقدار ضبط کی۔
پولیس کے مطابق مجموعی طور پر 10,890 کلوگرام یعنی 10.89 ٹن ہلدی، مرچ، دھنیا اور گرم مصالحہ پاؤڈر برآمد ہوا، جس کی مالیت تقریباً 25 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق یونٹ میں ہلدی پاؤڈر، مرچ پاؤڈر، دھنیا پاؤڈر اور گرم مصالحہ مقررہ غذائی معیار اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی پابندی کے بغیر تیار اور پیک کیا جا رہا تھا۔
پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں آلودہ/ملاوٹ شدہ مواد کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے حتمی نوعیت کا تعین متعلقہ فوڈ سیفٹی اور لیبارٹری جانچ کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی انتہائی سنگین ہے کہ مرچ، ہلدی، دھنیا اور گرم مصالحہ روزمرہ کے تقریباً ہر گھر کے کھانے کا حصہ ہیں۔ اگر ان میں غیر معیاری یا نقصان دہ اشیاء شامل کی جائیں تو اس کا اثر براہِ راست عام صارفین کی صحت پر پڑ سکتا ہے۔
پولیس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ یونٹ میں معروف برانڈز سے مشابہ جعلی پیکنگ اور لیبلز استعمال کیے جارہے تھے۔ بظاہر خوبصورت اور معیاری نظر آنے والی پیکنگ کے ذریعہ غیر معیاری مصنوعات کو بازار میں اصل یا معروف برانڈ کی مصنوعات کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔
اگر یہ الزامات تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف فوڈ ایڈلٹریشن کا معاملہ نہیں بلکہ صارفین کے اعتماد کے ساتھ بھی سنگین فراڈ ہے۔ ایک عام صارف پیکٹ پر درج برانڈ، تاریخ اور دیگر معلومات پر اعتماد کرکے مصنوعات خریدتا ہے۔ اس اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھانا انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔
پولیس کے مطابق ضبط کیے گئے مصالحہ جات کی تفصیل اس طرح ہے:
2,300 کلوگرام ہلدی پاؤڈر
3,350 کلوگرام مرچ پاؤڈر
5,140 کلوگرام دھنیا پاؤڈر
100 کلوگرام گرم مصالحہ
اس طرح مجموعی طور پر 10,890 کلوگرام مصالحہ جات ضبط کیے گئے۔ پولیس ٹیموں نے خام مال، تیار شدہ پاؤڈر، پیکنگ میٹریل اور مصالحہ تیار کرنے والی مشینری کا بھی معائنہ کیا۔ پولیس نے ستیہ نارائنا اور رودرشیکھر نامی دو افراد کو حراست میں لیا ہے، جبکہ ضبط شدہ سامان میڈی پلی پولیس اسٹیشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔
مَلکاجگیری پولیس کمشنر بی سمیتی نے ملاوٹ شدہ غذائی اشیاء کے ذریعے عوام کی صحت کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ پولیس کمشنریٹ بھی شہریوں سے مشتبہ سرگرمیوں کے بارے میں اطلاع دینے کی اپیل کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے 8712662111 نمبر جاری کیا گیا ہے۔
شہریوں کو مصالحہ جات اور دیگر پیک شدہ غذائی اشیاء خریدتے وقت برانڈ کا نام، مینوفیکچرنگ تاریخ، ایکسپائری یا Best Before تاریخ، بیچ نمبر اور FSSAI سے متعلق تفصیلات ضرور چیک کرنی چاہئیں۔ خاص طور پر انتہائی کم قیمت، غیر معروف پیکنگ یا مشکوک لیبل والی مصنوعات خریدنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر کسی پروڈکٹ کی پیکنگ، رنگ، بو، ذائقہ یا لیبل مشکوک محسوس ہو تو اسے استعمال نہ کیا جائے اور متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔
عوامی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف معاشرے کو بھی خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ملاوٹ خوروں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ چند افراد کا ناجائز منافع لاکھوں لوگوں کی صحت کی قیمت پر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔


