آندھرا کی انیس فاطمہ کو آکسفورڈ یونیورسٹی کا نایاب موقع! ڈیڑھ کروڑ کی اسکالرشپ کے باوجود مالی مشکلات خواب کی راہ میں حائل

حیدرآباد (دکن فائلز) آندھرا پردیش کے اننت پور ضلع کے گنتکل سے تعلق رکھنے والی طالبہ انیس فاطمہ نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے برطانیہ کی معروف آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلے کا نایاب موقع حاصل کیا ہے۔ تاہم غیر معمولی تعلیمی کامیابی کے باوجود مالی مشکلات ان کے اس خواب کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فاطمہ کو 2025 اور 26 کے تعلیمی سال کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایڈوانسڈ کمپیوٹیشنل نیورو سائنس اینڈ انفارمیشن سسٹمز کورس کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اس عالمی سطح کے انتخاب میں تقریباً 120 ممالک کے طلبا نے حصہ لیا اور فاطمہ ہندوستان سے حتمی طور پر منتخب ہونے والی واحد طالبہ قرار دی گئی ہیں۔

فاطمہ نے دسویں جماعت تک مرکزی ودیالیہ میں تعلیم حاصل کی، جبکہ انٹرمیڈیٹ کے لیے رشی ویلی اسکول میں داخلہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق آٹھویں جماعت ہی سے ان کا خواب تھا کہ وہ دنیا کے کسی ممتاز تعلیمی ادارے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے آکسفورڈ کے بین الاقوامی انتخابی امتحان میں شرکت کی اور کامیابی حاصل کی۔

ان کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے انہیں تقریباً 1.5 کروڑ روپے کی اسکالرشپ بھی دی ہے۔ تاہم اسکالرشپ کے باوجود بیرون ملک تعلیم کے دیگر اخراجات ان کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندان کے لیے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آکسفورڈ میں تعلیم کے دوران ہر سال تقریباً 35 سے 40 لاکھ روپے تک اخراجات آسکتے ہیں، جبکہ ویزا سے متعلق مالی شرائط پوری کرنے کے لیے بھی بڑی رقم درکار ہے۔ فاطمہ کے والدین اس رقم کا انتظام کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ فاطمہ کی صورتحال مقامی عوامی نمائندوں تک پہنچی تو مقامی کارپوریٹر انجنیلو نے خاندان کو گنتکل کے رکن اسمبلی گمنورو جے رام سے ملاقات کرائی۔ بعد ازاں فاطمہ کے معاملے کو ریاستی وزیر تعلیم نارا لوکیش کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق وزیر تعلیم نے فاطمہ کو یقین دلایا ہے کہ حکومت ان کی مدد کے لیے ضروری تعاون فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔ تاہم فاطمہ کے لیے وقت انتہائی اہم ہے کیونکہ ویزا سے متعلق کارروائیاں مکمل کرنے کے لیے مقررہ آخری تاریخ قریب ہے۔ فاطمہ نے اپنی کامیابی کا سہرا سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی تعلیم اور خواب دیکھنے کی ترغیب کو دیا ہے۔ انہوں نے حکومت اور رضاکار تنظیموں سے مالی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملتی ہے تو وہ بیرون ملک ہندوستان کا نام روشن کرنے کی پوری کوشش کریں گی۔

فاطمہ کی کہانی اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ صلاحیت اور محنت کسی بھی چھوٹے شہر یا متوسط طبقے کے طالب علم کو عالمی سطح تک پہنچا سکتی ہے، لیکن اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات بعض اوقات غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے طلبا کے لیے بھی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں