حیدرآباد (دکن فائلز) کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعہ 21 اگست کو دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا دیا اور 20 جولائی کے طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پیلٹ سے زخمی ہونے والے نوجوان ساحل لوچاب کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
راہل گاندھی ساحل لوچاب کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچے اور متعلقہ پولیس حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا اصرار تھا کہ نوجوان کی تحریری شکایت پر باقاعدہ ایف آئی آر درج کرکے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔ اطلاعات کے مطابق راہل گاندھی پہلے ساحل لوچاب کے ساتھ مندر مارگ پولیس اسٹیشن پہنچے تھے، جہاں مبینہ طور پر ایف آئی آر درج نہ ہونے کے بعد وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن اور ڈی سی پی دفتر پہنچے۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/ANI/status/2090701255366869469/video/1
بعد ازاں راہل گاندھی نے پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا شروع کردیا۔ کانگریس کے دیگر رہنما اور کارکن بھی ان کے ساتھ موجود رہے۔ راہل گاندھی کا مطالبہ ہے کہ ساحل لوچاب کی جانب سے دی گئی شکایت پر ایف آئی آر درج کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ 20 جولائی کے احتجاج کے دوران اسے مبینہ طور پر پیلٹ سے کس طرح چوٹیں آئیں۔
20 جولائی کو طلبہ کی جانب سے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران پولیس کارروائی میں مبینہ طور پر پیلٹ کے استعمال کا معاملہ پہلے ہی شدید تنازع کا شکار ہے۔ اس معاملے میں دہلی پولیس کے مؤقف اور بعض دستیاب سرکاری ریکارڈ کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کی جنرل ڈائری سے متعلق رپورٹس کے مطابق احتجاج کو کنٹرول کرنے کے دوران ریپڈ ایکشن فورس (RAF) نے مختلف غیر مہلک ہتھیار اور دو راؤنڈ پلاسٹک پیلٹس فائر کیے تھے۔ ریکارڈ میں یہ بھی درج ہونے کی اطلاع ہے کہ یہ کارروائی ایک ڈی سی پی رینک کے افسر کی ہدایت پر کی گئی۔ تاہم اس ریکارڈ، اس میں درج کارروائی اور زخمی ہونے والے مظاہرین کے معاملات کی مکمل قانونی حیثیت اور ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ اگر ایک نوجوان پولیس کارروائی کے دوران زخمی ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے تحریری شکایت دے رہا ہے تو اس شکایت کو باقاعدہ طور پر درج کرکے قانونی طریقے سے تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی اہلکار کی جانب سے قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔
راہل گاندھی کے دھرنے کے باعث پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر سیاسی سرگرمی تیز ہوگئی۔ کانگریس کی جانب سے یہ معاملہ پولیس کی جواب دہی اور احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال سے متعلق وسیع تر سوالات کے طور پر اٹھایا جارہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ساحل لوچاب کو 20 جولائی کے احتجاج کے دوران چوٹیں آئی تھیں اور اس کے علاج کے لیے اسپتال میں طبی امداد حاصل کرنا پڑی۔ بعض رپورٹس میں اس کے جسم کے مختلف حصوں، بشمول آنکھ اور پیٹ، میں پیلٹ سے زخم آنے اور سرجری کی ضرورت کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ایسے میں متاثرہ نوجوان کی شکایت پر شفاف تحقیقات اور دستیاب ویڈیو، میڈیکل ریکارڈ، پولیس لاگز اور دیگر شواہد کا جائزہ انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔
20 جولائی کے طلبا احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق شکایات پہلے ہی سپریم کورٹ کے سامنے زیرِ غور ہیں۔ عدالت نے پولیس کارروائی، مبینہ ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال، پیلٹ کے استعمال اور مظاہرین کے حقوق سمیت مختلف پہلوؤں کی جانچ کے لیے پانچ رکنی ہائی پاورڈ انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
اس پس منظر میں ساحل لوچاب کی شکایت پر ایف آئی آر اور پولیس تحقیقات کا مطالبہ معاملے میں ایک اور اہم قانونی پیش رفت بن گیا ہے۔ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنا پولیس کی ذمہ داری ہے، لیکن طاقت کا استعمال بھی قانون، ضرورت اور تناسب کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔


