حیدرآباد (دکن فائلز) اپنی شادی کی خوشیوں میں مصروف دلہن نے اس وقت انسانیت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کی خوبصورت مثال قائم کردی جب شادی کی تقریب میں کام کرنے والی دو خواتین کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ کیرالہ کے کنور سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر شیرین صبیر نے دلہن کے لباس میں ہی تقریب سے کچھ دیر کے لیے رخصت ہوکر دونوں خواتین کو فوری طبی امداد فراہم کی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لوگ ڈاکٹر دلہن کے جذبہ خدمت کو سراہ رہے ہیں۔
ڈاکٹر شیرین کا تعلق پانوور سے ہے اور ان کی شادی ڈاکٹر ریاض سے ہوئی۔ شادی کی تقریب جاری تھی کہ کیٹرنگ ٹیم میں شامل دو خواتین اچانک بیمار ہوگئیں۔ ایک خاتون کو ناک سے خون آنے لگا، جبکہ دوسری کو چکر آنے اور بے ہوشی جیسی کیفیت کا سامنا ہوا۔ تقریب میں موجود لوگوں کو معلوم تھا کہ شیرین ڈاکٹر ہیں، چنانچہ انہیں فوری طور پر مدد کے لیے بلایا گیا۔ دلہن نے شادی کا لباس پہنے ہوئے ہی دونوں خواتین کی طبیعت کا جائزہ لیا اور موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
ناک سے خون آنے والی خاتون کو ڈاکٹر شیرین نے آگے کی جانب جھکنے اور ناک کے نرم حصے کو تقریباً 10 سے 15 منٹ تک دبائے رکھنے کی ہدایت کی، تاکہ خون سانس کی نالی میں جانے سے محفوظ رہے۔ دوسری خاتون کو چکر آنے پر لٹا کر اس کی ٹانگیں قدرے بلند کی گئیں۔ ڈاکٹر شیرین اس وقت اوٹاپالم کے والّووناد اسپتال میں ایمرجنسی میڈیسن میں ایم ڈی کے پہلے سال کی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ ان کی طبی تربیت نے انہیں ہنگامی حالات میں فوری ردعمل دینے کے لیے تیار کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شیرین نے خود اس واقعے کو کوئی غیر معمولی کارنامہ قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص سڑک پر بے ہوش ہوجائے یا اچانک طبی مشکل میں مبتلا ہو تو ڈاکٹر کی حیثیت سے فوری مدد کرنا فطری ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طبی امداد کے بنیادی طریقوں سے عام لوگوں کو بھی واقف ہونا چاہیے، کیونکہ کسی ہنگامی صورتحال کے ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بروقت سی پی آر اور فوری طبی امداد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اس دوران کسی شخص نے پورے واقعے کی ویڈیو بنا لی جو بعد میں سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی۔ شیرین کا کہنا تھا کہ انہیں اس وقت معلوم بھی نہیں تھا کہ کوئی ان کی ویڈیو بنا رہا ہے۔ اپنی شادی کے سب سے اہم دن میں بھی ایک ضرورت مند کی مدد کو ترجیح دینے والی ڈاکٹر شیرین کا یہ عمل اس بات کی خوبصورت مثال بن گیا کہ انسانیت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے لیے کسی خاص موقع کا انتظار نہیں کیا جاتا۔


