حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی کے ساکیت علاقے میں دو خاتون صحافیوں نے پولیس پر حراست کے دوران مبینہ مارپیٹ اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر بدسلوکی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ دونوں صحافیوں کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان سے ان کی مذہبی شناخت کے بارے میں پوچھا اور جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہیں تو مبینہ طور پر ان کے ساتھ مارپیٹ مزید بڑھ گئی۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین کو وی آئی پی روٹ پر اسکوٹی کھڑی کرکے راستہ متاثر کرنے اور پولیس کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کے بعد پوچھ گچھ کے لیے تھانے لے جایا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق دونوں صحافی شاہین خان اور نفیسہ خان ایک پروگرام کی کوریج کے لیے ساکیت میں واقع میکس اسپتال کے قریب پہنچی تھیں۔ اس تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی کی چیف منسٹر ریکھا گپتا کی شرکت تھی۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ پروگرام کی کوریج کررہی تھیں اور چیف منسٹر سے سوال کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے انہیں روک دیا اور بعد ازاں ساکیت پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ دونوں خواتین کے مطابق پولیس اسٹیشن لے جانے کے بعد انہیں ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔
شاہین خان نے ایک ویڈیو میں الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان سے پوچھا کہ وہ کس برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق جب پولیس کو معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہیں تو مبینہ طور پر ان کے ساتھ دوبارہ تشدد کیا گیا۔ صحافیوں نے اپنے جسم پر موجود چوٹوں اور نیل کے نشانات کی ویڈیوز بھی جاری کیں، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئیں۔
ایک ویڈیو میں ایک خاتون کو زمین پر بے حس و حرکت پڑے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ دوسری ویڈیو میں نفیسہ خان کو ٹانگ میں مبینہ چوٹ کے باعث چلنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ شاہین خان نے الزام لگایا کہ ان کے ساتھ ان کی مسلم شناخت اور ’خان‘ نام کی وجہ سے نفرت آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔
دہلی پولیس نے صحافیوں کے الزامات کی تردید کی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں خواتین نے اپنی اسکوٹی ایک مقررہ وی آئی پی روٹ کے قریب کھڑی کردی تھی، جس سے وی آئی پی نقل و حرکت کا راستہ متاثر ہورہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں متعدد مرتبہ گاڑی ہٹانے اور راستہ صاف کرنے کے لیے کہا گیا، لیکن انہوں نے مبینہ طور پر ہدایات پر عمل نہیں کیا۔
پولیس کے مطابق سکیورٹی پروٹوکول کے تحت دونوں خواتین کو مقامی پولیس اسٹیشن لے جاکر مزید پوچھ گچھ کی گئی۔ پولیس نے ان پر تشدد یا چیف منسٹر سے سوال کرنے کی وجہ سے انہیں نشانہ بنانے کے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ واقعے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد متعدد صحافتی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمنز پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے مشترکہ بیان میں مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر سے **آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے پر کانگریس اور عام آدمی پارٹی سمیت اپوزیشن حلقوں نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ عآپ رہنما سوربھ بھاردواج نے مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے پولیس کارروائی پر سوال اٹھائے، جبکہ دیگر سیاسی و صحافتی حلقوں نے بھی معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔


