حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات کے کچّھ ضلع میں ایک مسلم نوجوان پر مبینہ طور پر حملے کے معاملے میں محکمہ جنگلات کے پانچ اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یہ کارروائی واقعہ کے تین روز بعد انسانی حقوق کی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی مسلسل کوششوں کے بعد عمل میں آئی۔
رپورٹ کے مطابق بھج کے لوریہ گاؤں کے رہنے والے فرید حاجی میر کو مبینہ طور پر محکمہ جنگلات کے ملازمین نے روکا اور پہلے ان کا نام پوچھا۔ الزام ہے کہ ان کے مسلمان ہونے کا علم ہونے کے بعد ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ مبینہ حملے میں فرید میر شدید زخمی ہوگئے، جنہیں بھج کے جی کے جنرل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا آپریشن بھی کیا جاچکا ہے۔
اے پی سی آر کے مطابق واقعہ کے فوراً بعد تنظیم نے متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے ایف آئی آر درج کرنے اور معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، تاہم مبینہ طور پر فوری طور پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ تین روز تک مسلسل نمائندگی اور کوششوں کے بعد بالآخر محکمہ جنگلات کے پانچ ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
اے پی سی آر نے اس پیشرفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی شہری کو سنگین جسمانی حملے کی شکایت کے بعد فوجداری مقدمہ درج کرانے کے لیے بار بار حکام کے دفاتر کے چکر نہیں لگانے چاہئیں۔ حقوق انسانی کی تنظیم نے کہا کہ چونکہ مبینہ طور پر حملے سے قبل نوجوان سے اس کا نام پوچھا گیا اور اس کے مسلمان ہونے کے بعد تشدد کیا گیا، اس لیے معاملے میں مذہبی امتیاز کے الزام کی بھی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیے۔
تنظیم نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی منصفانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، تمام متعلقہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں، طبی شواہد کا جائزہ لیا جائے اور اگر سرکاری اہلکاروں کے خلاف الزامات ثابت ہوتے ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ سرکاری عہدہ کسی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں بناتا اور سرکاری ملازمین سے قانون کے دائرے میں رہ کر شہریوں کے حقوق اور وقار کا تحفظ کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔
APCR نے فرید میر کے خاندان کو قانونی مدد فراہم کرنے اور معاملے کی پیروی جاری رکھنے کی بھی بات کہی ہے۔


