حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ مسلم خاتون ساحیدہ فقیر کو مبینہ طور پر بنگلہ دیشی ’درانداز‘ قرار دے کر ملک سے باہر بھیجے جانے کے معاملے نے انسانی حقوق اور شہریت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ خاتون کے شوہر جُمان فقیر کا کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ کے بھارتی شہری ہونے کے متعدد سرکاری دستاویزات پیش کیے جانے کے باوجود انہیں حراست میں لیا گیا اور بعد میں مبینہ طور پر بنگلہ دیش پہنچا دیا گیا۔
ساحیدہ فقیر کو تقریباً ایک ماہ قبل نوی ممبئی پولیس نے مبینہ طور پر ’درانداز‘ ہونے کے شبہ میں حراست میں لیا تھا۔ ان کے خاندان کے مطابق پولیس کے سامنے ان کی بھارتی شناخت اور شہریت سے متعلق متعدد سرکاری دستاویزات پیش کی گئیں، تاہم ان دستاویزات کو مبینہ طور پر جعلی قرار دیا گیا۔ بعد ازاں ساحیدہ کو آسام لے جاکر لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ سرحد پار بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔
ساحیدہ کے شوہر جُمان فقیر کے مطابق ان کی اہلیہ کے بنگلہ دیش جانے کے بعد گھر، بچوں اور روزگار کی ذمہ داریاں سنبھالنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ پہلے ساحیدہ بچوں کو اسکول سے واپس آنے کے بعد سنبھالتی تھیں، کھانا تیار کرتی تھیں اور گھر کے بیشتر کام انجام دیتی تھیں۔ اب جُمان کو ملازمت کے ساتھ کھانا پکانے، کپڑے دھونے، بچوں کو اسکول کے لیے تیار کرنے اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی خود اٹھانا پڑ رہی ہے۔ ان کے دو بچے بھی ماں کی غیر موجودگی میں روزمرہ کے کام خود کرنے پر مجبور ہیں۔
جُمان نے کہا کہ ساحیدہ کے بغیر گھر، گھر جیسا محسوس نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق بچے مسلسل سوال کرتے ہیں کہ ان کی ماں کہاں ہے اور واپس کب آئے گی، لیکن ان کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔جُمان کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان بھارتی ہے اور انہوں نے کبھی بنگلہ دیش کا سفر نہیں کیا۔ ان کے مطابق وہ پولیس کے پاس متعدد مرتبہ گئے اور ساحیدہ کے بھارتی ہونے کے تمام ضروری دستاویزات پیش کیے، لیکن انہیں پہلے یہ یقین دہانی کرائی جاتی رہی کہ چند دنوں میں ساحیدہ کو رہا کردیا جائے گا۔ بعد میں انہیں بتایا گیا کہ اسے بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔
جُمان نے دستاویزات کو جعلی قرار دیے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر شہریت ثابت کرنے والے تمام سرکاری کاغذات جعلی قرار دیے جائیں تو یہ بھی ایک بڑا سوال ہے کہ ایسے دستاویزات سرکاری نظام میں کیسے جاری ہوئے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ساحیدہ کے بہن بھائی اور دیگر قریبی رشتہ دار بھی بھارتی شہری ہیں، اس لیے صرف انہیں بنگلہ دیش بھیجے جانے پر خاندان کو شدید تشویش ہے۔
رپورٹ کے مطابق ساحیدہ کو آسام لے جاکر سرحد پار بنگلہ دیش بھیجا گیا، جہاں وہ اس وقت ستکھیرا میں ایک مقامی خاندان کے پاس رہ رہی ہیں۔ ان کے شوہر کے مطابق سرحدی محافظ بنگلہ دیش کی جانب سے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ساحیدہ نے فون پر اپنے شوہر کو بتایا کہ مقامی پولیس اور بارڈر گارڈ بنگلہ دیش ان پر نظر رکھ رہے ہیں اور انہیں جلد از جلد وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا جارہا ہے۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر بھارت نے انہیں واپس قبول نہ کیا تو بنگلہ دیش میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں حراست میں لیا جاسکتا ہے۔
ساحیدہ کی واپسی اور معاملے کی قانونی تحقیقات کے لیے مختلف تنظیموں اور افراد نے متعلقہ اداروں سے رجوع کیا ہے۔ بنگلار مانابادھیکار سورکشا منچ (MASUM) نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ساحیدہ کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری، من مانی حراست اور انہیں بنگلہ دیشی قرار دینے کے معاملے کو اٹھایا ہے۔ 11 اگست کو انسانی حقوق کے کارکن اور دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق مشیر محمد صدام مجیب نے بھی قومی اقلیتی کمیشن اور قومی انسانی حقوق کمیشن میں شکایات دائر کیں، جن میں ساحیدہ کے معاملے میں مداخلت، تحقیقات اور ان کے حقوق کے تحفظ کی درخواست کی گئی۔
اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت 24 اگست 2026 کو ہوئی، جب قومی اقلیتی کمیشن نے وزارت داخلہ کے سکریٹری کو خط لکھ کر معاملے پر توجہ دینے اور ضروری کارروائی کرنے کی درخواست کی۔ شکایت کنندہ صدام مجیب نے کہا کہ کمیشن کی مداخلت اہم ہے کیونکہ معاملہ قانونی طریقۂ کار، شخصی آزادی، اقلیتی حقوق، خاندان کی جدائی اور کسی شخص کی شہریت کے قانونی تعین جیسے بنیادی سوالات سے متعلق ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ حکام دستاویزات کا جائزہ لے کر معاملے کی شفاف اور فوری تحقیقات کریں گے اور قانونی تصدیق کے بعد ساحیدہ کی محفوظ واپسی کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔


