منشیات کے خلاف جنگ صرف چھوٹے مچھلیوں کی گرفتاری سے ختم نہیں ہوسکتی

مضمون نگار: محمد عمر احمد
* غیر قانونی منشیات کے خلاف سنجیدہ کارروائی کا دائرہ صرف آسانی سے پکڑے جانے والے افراد تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان طاقتور نیٹ ورکس اور مالیاتی ذرائع کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے جو منشیات کی سپلائی کو مسلسل جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔*

ہندوستان میں منشیات کے مسئلے کو اکثر ایسی تصاویر کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے جن میں کسی شخص کو تھوڑی مقدار میں گانجا رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے یا کسی سڑک کنارے منشیات فروخت کرنے والے کو حراست میں لیا جاتا ہے۔ لیکن اگر واقعی غیر قانونی منشیات کی معیشت کو متاثر کرنا مقصود ہے تو زنجیر کی سب سے نچلی کڑی کو پکڑنا صرف آدھا کام ہے۔

اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ منشیات کی سپلائی کہاں سے آتی ہے؟ اس کے لیے رقم کون فراہم کرتا ہے؟ اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ کون پہنچاتا ہے؟ اور سڑکوں کی سطح سے اوپر موجود وہ نیٹ ورک آخر کیوں مسلسل قائم رہتے ہیں؟

سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر پورے کاروبار کو چلانے والے اصل سرغنے آخر قانون کی گرفت سے کیوں باہر رہتے ہیں؟

اگر کارروائی صرف منشیات کے کاروبار کی سب سے نچلی سطح تک محدود رہے تو اس سے قابو پانے کا ایک مصنوعی تاثر تو پیدا ہوسکتا ہے، لیکن منشیات کے کاروبار کو برقرار رکھنے والا بنیادی ڈھانچہ بدستور قائم رہتا ہے۔

ملک میں منشیات کے استعمال کی سطح اس سوال کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات (Ministry of Social Justice and Empowerment) اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) کے نیشنل ڈرگ ڈیپینڈنس ٹریٹمنٹ سینٹر کی جانب سے 2019 میں کیے گئے ملک گیر سروے کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 3.1 کروڑ ہندوستانی شہریوں نے بھنگ سے بنی اشیا استعمال کی تھیں۔ یہ 10 سے 75 سال کی عمر کے افراد کا تقریباً 2.8 فیصد بنتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ تقریباً 1.2 فیصد، یعنی لگ بھگ 1.3 کروڑ افراد نے بھنگ کی غیر قانونی اقسام، مثلاً گانجا اور چرس، استعمال کی تھی، جبکہ بھنگ (Bhang) کو اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ منشیات کے استعمال کو محض انفرادی افراد کے جرم یا انحراف کا مسئلہ سمجھنا کافی نہیں ہے۔ لاکھوں لوگوں کو منشیات فراہم کرنے والی ایک بڑی مارکیٹ صرف چند الگ تھلگ سڑک کنارے فروشوں کے ذریعے نہیں چل سکتی۔ اس کے لیے کاشت، جمع آوری، نقل و حمل، تھوک کی سطح پر تقسیم اور خوردہ فروشی کے منظم نیٹ ورک درکار ہوتے ہیں۔

ہندوستان میں ایسے کئی علاقے موجود ہیں جہاں بھنگ کی غیر قانونی کاشت یا جنگلی طور پر اس کی افزائش اور اسمگلنگ کے حوالے سے سرکاری اداروں نے نشاندہی کی ہے۔ نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) کی رپورٹس کے مطابق ہماچل پردیش، اروناچل پردیش، تریپورہ، اوڈیشہ، جھارکھنڈ اور آندھرا-اوڈیشہ سرحدی خطے کے بعض علاقوں میں غیر قانونی بھنگ کی کاشت یا جنگلی بھنگ کی موجودگی کی اطلاع دی گئی ہے۔

ایجنسی نے کشمیر اور ہماچل پردیش سے ملک کی بڑی منڈیوں کی جانب منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں کی بھی نشاندہی کی ہے، جبکہ چرس کی کچھ مقدار نیپال کی سرحد کے راستے ہندوستان میں داخل ہونے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی سے سامنے آنے والے اعداد و شمار بھی اس مارکیٹ کے حجم کا اندازہ فراہم کرتے ہیں۔ نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی 2023 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 3,320 کلوگرام چرس (Hashish) ضبط کی گئی۔ اس سے قبل 2022 میں 3,495 کلوگرام اور 2021 میں 4,197 کلوگرام چرس ضبط کی گئی تھی۔

تاہم یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ضبط کی گئی منشیات کی مقدار کل پیداوار کی نمائندگی نہیں کرتی۔ یہ صرف اتنی مقدار ہے جس کا سراغ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملا اور جسے وہ پکڑنے میں کامیاب ہوئے۔

یہیں سے بدعنوانی کا معاملہ ایک اہم ادارہ جاتی تشویش بن کر سامنے آتا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کے مطابق منشیات کی پوری سپلائی چین میں، یعنی پیداوار اور اسمگلنگ سے لے کر تقسیم تک، مختلف مراحل پر بدعنوانی ہوسکتی ہے اور اس سے متعدد ادارے متاثر ہوسکتے ہیں۔

تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی بڑے منشیات اسمگلر کی گرفتاری میں ناکامی لازماً رشوت، سیاسی سرپرستی یا کسی مخصوص ادارے کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ لیکن یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائی میں آزادانہ نگرانی، شفاف تحقیقات اور مؤثر احتساب کیوں ضروری ہیں۔

جب قانون نافذ کرنے والی کارروائی غیر متناسب طور پر آسان اہداف پر مرکوز ہوجائے تو ایک خطرناک صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ سڑک کی سطح پر منشیات فروخت کرنے والا شخص آسانی سے نظر آجاتا ہے۔ منشیات استعمال کرنے والے کو شناخت کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ کسی پیکٹ کے ساتھ پکڑا جانے والا شخص بھی فوری طور پر گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

لیکن منشیات کی کاشت کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والے، نقل و حمل کو کنٹرول کرنے والے، بڑے پیمانے پر منشیات تقسیم کرنے والے اور متعدد ڈیلروں کے نیٹ ورک کو منظم کرنے والے افراد تک پہنچنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ یہی وہ سطح ہے جہاں منشیات کے اصل کاروباری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کو منشیات کے خلاف اپنی کارروائی کی کامیابی کو جانچنے کا طریقہ بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

پولیس اور انسدادِ منشیات کے اداروں کو صرف یہ اعداد و شمار شائع نہیں کرنے چاہئیں کہ کتنے افراد گرفتار ہوئے، بلکہ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ:
* کتنی تحقیقات مالی معاونین تک پہنچیں؟
* کتنے بڑے منتظمین اور سرغنے گرفتار ہوئے؟
* کتنے بار بار منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہوئی؟
* منشیات سے حاصل ہونے والی مشتبہ آمدنی سے خریدے گئے اثاثوں کا کتنا سراغ لگایا گیا؟
* کتنے اثاثے ضبط کیے گئے؟
* مختلف ایجنسیوں کے درمیان انٹیلی جنس کا تبادلہ کس حد تک مؤثر رہا؟

گرفتاریوں کے ساتھ مالیاتی تحقیقات، مشتبہ اثاثوں کی ضبطی، مختلف سرکاری اداروں کے درمیان انٹیلی جنس کا مؤثر تبادلہ اور آزادانہ نگرانی بھی ہونی چاہیے۔ کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے افراد گرفتار کیے گئے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا منشیات کا پورا سپلائی نیٹ ورک حقیقتاً توڑا گیا اور کیا اس کے نتیجے میں معاشرہ زیادہ محفوظ ہوا۔

منشیات کے مسئلے کا ایک اور اہم پہلو سزا اور روک تھام کے درمیان فرق ہے۔ جب لاکھوں افراد بھنگ اور دیگر نشہ آور اشیا کے استعمال سے متاثر یا اس کے رابطے میں آچکے ہوں تو صرف قانون نافذ کرنے والی کارروائی اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتی۔ علاج، عوامی آگاہی، تعلیم اور ابتدائی مرحلے میں مداخلت کو پولیسنگ اور انسدادِ منشیات کی کارروائی کے ساتھ ساتھ چلانا ہوگا۔

نشے کے عادی افراد کو صرف مجرم سمجھ کر جیل بھیج دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ بہت سے معاملات میں علاج، بحالی اور سماجی و نفسیاتی معاونت بھی ضروری ہوتی ہے تاکہ افراد دوبارہ منشیات کی طرف نہ لوٹیں۔ ہندوستان کے انسدادِ منشیات نظام کا حقیقی امتحان یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کتنے چھوٹے منشیات فروشوں کو گرفتار کرتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کی سپلائی چین میں اوپر کی طرف بڑھتے ہوئے ان نیٹ ورکس کو توڑ سکتے ہیں جو گرفتار کیے جانے والے چھوٹے فروشوں کی جگہ بار بار نئے افراد کھڑے کردیتے ہیں؟ اگر کارروائی صرف سب سے نچلی سطح کے افراد تک محدود رہی تو ایک شخص گرفتار ہوگا، دوسرا اس کی جگہ لے لے گا اور منشیات کا کاروبار بدستور جاری رہے گا۔

منشیات کے خلاف حقیقی جنگ تب ہی کامیاب ہوسکتی ہے جب کارروائی چھوٹی مچھلیوں سے آگے بڑھ کر ان مالی معاونین، منتظمین، اسمگلروں، اثاثوں اور طاقتور نیٹ ورکس تک پہنچے جو اس پورے غیر قانونی کاروبار کو زندہ رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں