محمود عباس کا جنگ سے متاثرہ جنین شہر کا غیرمعمولی دورہ

فلسطینی صدر محمود عباس نے غرب اردن کے شمالی شہر جنین اور اس میں موجود اسرائیلی جارحیت کے شکار پناہ گزین کیمپ کا 10 سال سے زائد عرصے میں اپنا پہلا دورہ کیا۔ اس دورے کے موقع پر انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوجی آپریشن کے نتیجے میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کے بعد کیمپ کی “فوری طور پر” تعمیر نو کریں گے۔ اسرائیلی فوج کی اس وحشیانہ کارروائی میں ایک درجن فلسطینی شہید اور ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔

محمود عباس نے کیمپ کو “جدوجہد، ثابت قدمی اور چیلنج کا آئیکن” قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ “ہم یہ کہنے آئے ہیں کہ ہم ایک اتھارٹی، ایک ریاست، ایک قانون اور ایک سلامتی اور استحکام ہیں، جو ہمارے اتحاد اور سلامتی کو نقصان پہنچائے گا ہم اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے”۔ سینکڑوں فلسطینی کیمپ کے داخلی دروازے پر جمع ہوئے جہاں محمود عباس نے ایک جلے ہوئے ریسٹورنٹ کے سامنے اپنی تقریر کی جسے اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں تباہ کردیا گیا تھا۔

صدر عباس نے فوجی آپریشن میں مارے جانے والوں کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی، جن میں سے بیشتر کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔ اس موقعے پر انہوں نے فلسطینی کوفیہ پہن رکھا تھا اور بائیں ہاتھ میں زیتون کی شاخیں پکڑی ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین پر ثابت قدم رہیں گے اور اسے نہیں چھوڑیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں