مسلم خواتین کو دوہرے امتیاز کا سامنا: اسدالدین اویسی نے ’خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کی (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف “ساورنہ خواتین” کو ہی ریزرویشن فراہم کرے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ او بی سی اور مسلم خواتین جن کی پارلیمنٹ میں نمائندگی اس سے بھی کم ہے، انہیں کوئی کوٹہ کیوں نہیں دیا جا رہا ہے۔

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’میں اس قانون کی مخالفت کرتا ہوں… اس بل کے لیے جو جواز پیش کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ زیادہ خواتین منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں آئیں گی۔ اگر یہی جواز ہے تو اس جواز کو او بی سی اور مسلم خواتین تک کیوں نہیں وسعت دی جارہی ہے جن کی اس معزز ایوان میں نمائندگی انتہائی کمتر ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ مسلم خواتین آبادی کا سات فیصد ہیں لیکن اس لوک سبھا میں ان کی نمائندگی صرف 0.7 فیصد ہے‘۔

اویسی نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’میں نے سنا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا؟ 1950 کا صدارتی حکم کیا ہے؟ آپ اس ریزرویشن کے اندر مسلم خواتین کو کوٹہ دینے سے انکار کر کے انہیں دھوکہ دے رہے ہیں‘۔

1950 کے آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر میں صرف ہندوؤں کو ایس سی کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ 1956 اور 1990 میں ترمیم کی گئی جس میں سکھ دلتوں اور بعد میں بدھ دلتوں کو اس میں شامل کیا گیا۔

انہوں نے بی جے پی حکومت پر مسلم و او بی سی خواتین کو ان کے جائز حق سے محروم کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین کو دوہرے امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل سے ایوان میں مسلمانوں کی نمائندگی کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ اویسی نے بل کو ایک دھوکہ دہی کا بل قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں