غزہ کے اسپتالوں میں سہولیات ختم، ڈاکٹر مریض کو بیہوش کیے بغیر آپریشن کرنے پر مجبور

فوٹو بشکریہ آسٹریلوی میڈیا

غزہ میں مسلسل بمباری اور سخت ترین ناکہ بندی کے باعث اسپتالوں میں بنیادی سہولیات ختم ہوگئیں، ڈاکٹر اسپتالوں کے صحن میں بے ہوش کیے بغیر آپریشن کرنے پر مجبور ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مزید اسپتال بھی اسرائیل کے نشانے پر ہیں، القدس اور الشفا اسپتال اور ہلال احمر کے ہیڈکوارٹر کے قریبی علاقوں پر 30 منٹ تک بمباری کی گئی، اسپتال کا عملہ اور مریضوں کے دل دہل گئے۔

جیو نیوز کے مطابق غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر مدحت عباس نے کہا کہ اسپتالوں کے صحن میں، آپریشن روم میں اور ایمرجنسی روم کی زمین پر سیکڑوں افراد پڑے ہیں، ان افراد میں اکثریت معصوم بچوں کی ہے۔ ڈاکٹر مدحت عباس کا کہنا تھا کہ غزہ کے اسپتالوں کے صحن میں بے ہوش کیے بغیر آپریشن کیے جارہے ہیں، اُن لوگوں کی زندگیاں بچانےکی کوشش کی جارہی ہے جن میں جینےکی امید باقی ہے، باقیوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورک ایجنسی کا کہنا ہےکہ غزہ کے لوگوں کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے، ہمیں ابھی فوری امدادی سامان چاہیے، پیغام واضح ہے، غزہ کو تباہ کن انسانی بحران کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہےکہ غزہ میں پینےکا پانی ختم ہوچکا، بچےگندا پانی پینے پر مجبور ہیں، غزہ میں صورتحال تباہ کن ہے، خان یونس میں گزشتہ روز چکن پاکس کا پہلا کیس سامنےآیا، غزہ میں لوگ اسرائیلی فوج کے حملے سے نہیں مرے تو آلودگی اور وبائی امراض پھیلنے سے مرجائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں