’چارمینار کی مسجد میں نماز کی مہم‘ پر بھڑکے بنڈی سنجے، پرانے شہر سے متعلق ایک بار پھر اگلا زہر


چارمینار میں واقع مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس کے رہنما راشد خان نے ایک دستخطی مہم شروع کی ہے جس سے تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کو تکلیف ہورہی ہے۔ انہوں نے اس مہم پر اپنے بیجا غصہ کا اظہار کیا اور ہمیشہ کی طرح بغیر کسی ثبوت کے پرانا شہر سے متعلق بہتان طرازی کی۔

بنڈی سنجے کے بیان سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی ہر حال میں تلنگانہ کے اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے اور لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتے ہوئے اپنے مقصد میں کامیابی کےلیے کوشاں ہے۔ بنڈی سنجے نے سوال کیا کہ ’آج اچانک آپ کو نماز کی یاد کیوں آگئی‘۔ انہوں نے کہا کہ نماز پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر مقابلہ کے مقصد سے ایسا کیا جائے گا تو یہ ناقابل قبول ہے‘۔

بنڈی سنجے نے راشد خان کی مہم پر سوال کیا کہ ’جب میں بھاگیہ لکشمی مندر سے اپنی پدیاترا شروع کرتا ہوں تو ایسے وقت ہی اس طرح کا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ٹی آر ایس اور مجلس اتحاد المسلمین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنے کےلیے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور ٹی آر ایس کے درمیان اندرونی مفاہمت ہے۔ انہوں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پرانے شہر کی تنگ گلیوں کا اور یہاں کی بیروزگاری کا تو ذکر کیا لیکن انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے علاقے کو ملک مخالف سرگرمیوں سے جوڑنے کی بھی کوشش کی۔

بنڈی سنجے کے بیان پر کانگریس کے متعدد رہنماؤں نے شدید تنقید کی۔

مقامی عوام کا کہنا ہے کہ ’حیدرآباد کے پرنا شہر سے متعلق بیان بازی کرتے وقت بی جے پی کے رہنما یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مرکز میں ان کی حکومت ہے اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ہیں، اگر الزامات صحیح ہیں تو پھر وزارت داخلہ کی کارکردگی پر سوال اٹھنا واجب ہے‘۔ لوگوں نے بتایا کہ سیاسی بیان بازی کے دوران تحمل سے کام لینا چاہئے تاکہ ملک کا نام بدنام نہ ہوسکے، بی جے پی کے رہنما اکثر سیاسی مفاد کی خاطر اس طرح کی بیان بازی کرتے ہیں جس سے ملک کی شبہہ کو نقصان پہنچتا ہے لیکن اس سے انہیں کوئی مطلب نہیں، بی جے پی کے رہنما صرف اپنی سیاست چمکانے پر یقین رکھتے ہیں۔ عوام کے مطابق پرانا شہر گنگاجمنی تہذیب کا مرکز ہے۔ یہاں لوگ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں اور ہندوؤں کی بڑی آبادی یہاں آباد ہے۔

تلنگانہ کانگریس کے رہنما راشد خان نے کہا کہ چار مینار کی مسجد میں نماز ادا کی جاتی تھی تاہم دو دہائی قبل آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے نماز ادا کرنے سے روک دیا تھا۔انہوں نے چارمینار مسجد کو دبارہ کھولنے اور یہاں نماز ادا کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبہ کو لیکر وہ دستخطی مہم چلارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں