حیدرآباد کے بارکس میں مندر کو نقصان پہنچانے کا بدبختانہ واقعہ، شہر کا امن خراب کرنے کی سازش ناکام بنائی جائے

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے بارکس علاقہ میں واقع سری دویمکھی ہنومان مندر میں منگل 24 فروری کو توڑ پھوڑ کا ایک بدبختانہ واقعہ پیش آیا، جس کی ہر طبقۂ فکر کی جانب سے سخت مذمت کی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شرپسند عناصر نے مندر کی آہنی جالی توڑ کر مورتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جس کے بعد علاقہ میں کچھ دیر کے لیے کشیدگی کا ماحول دیکھا گیا۔

چندرائن گٹہ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ عوامی نمائندے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی موقع پر پہنچے اور واقعہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے دن پیش آیا جب مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کی جانب سے چارمینار کے خلاف واقع مندر کے دورے کا پروگرام طے تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ دیگر مندروں کا بھی دورہ کرنے والے ہیں۔ سیاسی مبصرین اس سلسلے کو آنے والے بلدیاتی انتخابات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ پولیس کو اس معاملہ کی جانچ ہر زاویہ سے کرنی چاہئے۔

شہر کے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ مندر کو نقصان پہنچانے کا یہ عمل نہایت قابلِ مذمت ہے اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہئے۔ تاہم اس افسوسناک واقعہ کی آڑ میں کچھ فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے شہر کے پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوششیں بھی قابلِ تشویش ہیں۔ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز اور نفرت آمیز پیغامات کے ذریعہ حالات کو بگاڑنے کی سازش کی جارہی ہے، جس پر فوری روک لگانا ضروری ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس نہ صرف مندر کی بے حرمتی میں ملوث بدبخت عناصر کو گرفتار کرے بلکہ اس واقعہ کو بہانہ بنا کر کسی بھی مخصوص طبقہ کے خلاف زہر اگلنے اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی ہر سرگرمی کے خلاف بلا امتیاز اقدام کرے تاکہ حیدرآباد کا امن و امان اور گنگا جمنی تہذیب برقرار رہ سکے۔

مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں