پہلے متبادل رہائش کے بعد ہی گھروں کو منہدم کیا جائے! سپریم کورٹ کا ہلدوانی ریلوے کالونی کیس میں اہم فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے ہلدوانی ریلوے کالونی سے متعلق طویل عرصے سے جاری مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ متنازعہ زمین ریلوے کی ملکیت ہے اور اس کے استعمال کا اختیار بھی ریلوے کے پاس ہے۔ تاہم عدالت نے انسانی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت، ریلوے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ متاثرہ خاندانوں کی منظم بازآبادکاری یقینی بنائی جائے اور فی الحال کسی قسم کی انہدامی کارروائی نہ کی جائے۔ آئندہ سماعت اپریل میں مقرر کی گئی ہے۔

یہ فیصلہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر محمود مدنی کی ہدایت پر متاثرین کی جانب سے دائر کردہ عرضی پر سنایا گیا۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ معاملہ ہزاروں افراد سے جڑا ہے اس لیے انتظامیہ ذمہ داری سے کام کرے۔ نینی تال ضلع اور مقامی انتظامیہ کو کیمپ لگا کر متاثرہ خاندانوں کا اندراج کرنے اور انہیں پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت درخواست دینے کا موقع فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ رمضان المبارک اور عید کے پیش نظر رجسٹریشن کیمپ 19 مارچ کے بعد لگانے کا حکم دیا گیا تاکہ لوگ سکون سے عمل میں شریک ہو سکیں۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ بے دخلی کی صورت میں ریلوے اور ریاستی حکومت مشترکہ طور پر منتقل ہونے والے خاندانوں کو چھ ماہ تک ماہانہ مالی امداد فراہم کریں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ریلوے لائن کی توسیع ناگزیر ہے اور زمین اس مقصد کے لیے اہم ہے۔

دوسری جانب جمعیۃ کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ تقریباً پچاس ہزار افراد اس علاقے میں مقیم ہیں اور یکمشت بازآبادکاری آسان نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ زمین کے استعمال کا حتمی فیصلہ متعلقہ ادارہ کرے گا، تاہم متاثرین کے انسانی حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ انصاف اسی وقت مکمل ہوگا جب ہر متاثرہ خاندان کو باعزت متبادل رہائش ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی آئینی نظام میں برسوں سے آباد لوگوں کو بغیر متبادل کے بے گھر کرنا مناسب نہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے اعلان کیا کہ تنظیم بازآبادکاری کے ہر مرحلے میں متاثرین کے ساتھ کھڑی رہے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی مستحق خاندان اپنے حق سے محروم نہ رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں