حیدرآباد (دکن فائلز) سنبھل جامع مسجد سروے کے دوران ہوئے پرتشدد واقعات میں اب نیا موڑ آیا ہے۔ مقامی عدالت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے سروے کمیشن کے ارکان پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کے علاوہ عام لوگوں نے انتہائی سنسنی خیز الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ سروے کمیشن میں شامل کچھ ارکان پر تشدد بھڑکانے کا ذمہ دار بھی قرار دیا جارہا ہے۔ کمیشن کے کچھ اراکان پر الزامات ہے کہ انہوں نے سروے کے لئے مسجد جاتے وقت اور سروے ختم ہونے کے بعد جانے کے دوران ایک خاص مذہب کے لوگوں کو مشتعل کرنے اور ان کے جذبات بھڑکانے کےلئے جے ایس آر کے نعرے لگائے تاکہ مقامی لوگوں کو اکسایا جاسکے، جبکہ اس واقعہ کا پولیس ایف آئی آر میں ذکر تک نہیں کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سروے کے دوران کمیشن میں شامل کچھ ارکان، سرکاری و پولیس عہدیداروں کی موجودگی میں جے ایس آر کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سروے ٹیم میں شامل ارکان کی جانب سے یہ نعرے لگائے گئے تھے؟ اگر نہیں تو پھر انہوں نے دیگر ارکان کو ہندوتوا نعرے لگانے سے روکا کیوں نہیں؟ جبکہ یہ سروے عدالت کے حکم پر کیا جارہا تھا تو پھر یہاں ایک خاص مذہبی نعرے کیوں لگائے گئے؟
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/1860699161361866985
مسجد کا سروے کرنے والی ٹیم کا انداز کچھ ایسا تھا کہ مانو جیسے انہوں نے کوئی جنگ جیت لی ہے یا کسی لڑائی میں دشمن کو شکست دیدی ہے۔ لوگوں نے عدالت، حکومت اور انتظامیہ سے اس طرح کی شرپسندی کرنے والے افراد کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیا الرحمن برق نے کہا کہ “کچھ لوگ جو ٹیم کے ساتھ تھے ‘جئے شری رام’ کے نعرے لگا رہے تھے، جیسے ہی مقامی لوگوں نے اس کی مخالفت کی، پولیس نے ان پر فائرنگ کردی اور چار لوگوں کو ہلاک کر دیا، حکومت کو اتوار کے تشدد میں ملوث پولیس افسران کی نشاندہی کرنی چاہیے اور انہیں جیل میں ڈالنا چاہیے۔”
سروے ٹیم میں عدالت کے مقرر کردہ کمشنر، مقامی وکیل رمن راگھو کے ساتھ کمیشن کے ارکان (زیادہ تر وکلاء)، ضلع مجسٹریٹ راجندر پیسیا اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کرشنا کمار شامل تھے۔ تاہم ایک اور اطلاع کے مطابق ٹیم کے ساتھ دیگر کئی لوگ بھی شامل ہوگئے تھے، جو نعرے بازی کررہے تھے۔
نگینہ سے آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے رکن پارلیمنٹ چندر شیکھر آزاد متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کےلئے سنبھل جارہے تھے کہ انہیں پولیس نے روک دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب جانتے ہیں کہ جو لوگ کورٹ کمشنر کے ساتھ جامع مسجد گئے تھے وہ فرقہ وارانہ نعرے لگا رہے تھے اور جس طرح سے پولیس ہجوم پر گولی چلارہی تھی وہ تشویشناک تھا‘‘۔
کانگریس جنرل سکریٹری اور نو منتخب رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے ایکس پر ایک پوسٹ لکھا کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہئے اور انصاف فراہم کرنا چاہئے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کے رویہ کو “بدقسمتی” قرار دیا۔ انہوں نے ہندی میں ٹوئٹ کیا کہ ’’انتظامیہ نے جس طرح سے دونوں فریقوں کو سنے بغیر اور انہیں اعتماد میں لیے بغیر عجلت سے کام لیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے خود ماحول خراب کیا ہے۔‘‘
سماج وادی کے صدر اور ایم پی اکھلیش یادو نے ایکس پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا جس میں کمیشن کے کچھ ارکان کو پولیس کے ساتھ مسجد کی طرف جاتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ اس دوران ایک ہجوم “جئے شری رام” کے نعرے لگارہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سروے کے نام پر کشیدگی پیدا کرنے کی سازش رچی گئی۔ سپریم کورٹ کو ان لوگوں کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہیے جو سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کے لیے نعرے لگانے والے ہجوم کو اپنے ساتھ (مسجد تک) لے گئے۔ بار ایسوسی ایشن کو بھی ان (سروے کمیشن کے وکلاء)کے خلاف تادیبی کارروائی کرنی چاہئے”۔


