مہاراشٹرا کے ڈومبیولی میں گاؤں والوں نے باہر کے مسلمانوں کو جمعہ کی نماز ادا کرنے سے روک دیا، مسجد میں صرف مقامی مسلمانوں کو ہی نماز پڑھنے کی اجازت

حیدرآباد (دکن فائلز ۔ تصویر بشکریہ اساکل ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں بھیونڈی کے قریب واقع ڈومبیولی کے کھونی گاؤں کی مسجد میں صرف مقامی مسلمانوں کو ہی نماز ادا کرنے پر زور دیا گیا ہے جبکہ گاؤں کے باہر کے مسلمانوں کو مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اساکل کی رپورٹ کے مطابق گاؤں میں جنسی و دیگر جرائم جرائم کے بڑھتے واقعات کو دیکھتے ہوئے کھونی گاؤں کے لوگوں نے باہر سے آنے والے مسلمانوں کو گاؤں کے قریب مسجد میں نماز ادا کرنے سے روکنے کا فیصلہ کیا۔ من مانی پابندی سے مسلمانوں میں تشویش کی لہر کو دیکھتے ہوئے علاقہ میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کئی سالوں سے جمعہ کے موقع پر قریبی علاقوں کے مسلمان کھونی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے آیا کرتے تھے تاہم گذشتہ روز کھونی گاؤں کے افراد نے باہر سے آنے والے مسلمانوں کو روک دیا اور کہا کہ انہیں یہاں کی مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کو مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت ہوگی لیکن باہر کے مسلمان یہاں نہیں آسکتے۔

ہر سال کی طرح گذشتہ جمعہ کو بھی قریبی علاقوں سے بڑی تعداد میں مسلمان ڈومبیولی کے کھونی گاؤں کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کےلئے پہنچے تاہم انہیں گاؤں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ گاؤں والوں نے دیگر علاقوں کے مسلمانوں پر بنگلہ دیشی ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی گاؤں میں پابندی کو جائز قرار دیا اور گاؤں کی سیکوریٹی کا حوالہ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں