حیدرآباد (دکن فائلز) راہل گاندھی نے کہا کہ ’’مادر ہند کے عظیم فرزند ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کی آخری رسومات آج نگم بودھ گھاٹ پر کروا کر موجودہ حکومت کے ذریعہ ان کی سراسر توہین کی گئی ہے۔‘‘
راہول گاندھی نے ٹوئٹ کیا کہ ’موجودہ حکومت نے مادر ہند کے عظیم فرزند اور سکھ برادری کے پہلے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آج نگم بودھ گھاٹ پر آخری رسومات ادا کرکے پوری طرح سے توہین کی ہے۔ وہ ایک دہائی تک ہندوستان کے وزیر اعظم رہے، ان کے دور میں ملک معاشی سپر پاور بن گیا اور ان کی پالیسیاں آج بھی ملک کے غریب اور پسماندہ طبقات کو سہارا دے رہی ہیں۔ آج تک تمام سابق وزرائے اعظم کے وقار کا احترام کرتے ہوئے ان کی آخری رسومات مجاز یادگار مقام میں ادا کی گئیں تاکہ ہر شخص خراج عقیدت پیش کرسکے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ ہمارے اعلیٰ ترین احترام اور یادگار کے مستحق ہیں۔ حکومت کو ملک کے اس عظیم فرزند اور اس کی عظیم برادری کے تئیں احترام کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا‘۔
https://x.com/RahulGandhi/status/1872952908502974976
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ دونوں نے مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو آخری رسومات کے لیے یادگار مقام فراہم نہ کرتے ہوئے ان کی توہین کا الزام عائد کیا۔
وہیں سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بھی سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسومات اور یادگار کے انتخاب کو لے کر مرکزی حکومت پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ ’ملک کے سابق وزیر اعظم (منموہن سنگھ) کی یادگار کے تناظر میں احترام کی روایت پر عمل کیا جانا چاہیے تھا‘۔
اس معاملہ پر بی جے پی نے بھی رد عمل ظاہر کیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ سمبت پاترا نے کہا کہ کانگریس جس طرح کی سیاست کر رہی ہے وہ شرمناک ہے۔


