نئے سال کا جشن منانا، آتش بازی اور غیرشرعی رسومات اسلامی تعلیمات کے مغائر، مسلم نوجوان خرافات سے دور رہیں: مولانا ندیم صدیقی

ممبئی ( پریس ریلیز ) اسلام ہمیں قطعاً اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مسلمان نئے سال پر یا کسی بھی موقع پر آپے سے باہر ہوجائیں، پٹاخیں پھوڑیں، آتش بازیاں کریں، رقص وسرور کی محفلیں سجائیں، شراب نوشی کریں،اور اس نام پر ہونے والے پروگراموں میں حصہ لیں۔ تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ نئے سال کو منانے کے لئے جو طریقے اختیار کئے جارہے ہیں وہ معاشرہ کے لئے انتہائی مہلک ہیں،نوجوان نسل پر اس کے منفی اثرات پڑرہے ہیں،عریانیت وفحاشیت بڑھتی جارہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے اخبارات کے جاری اپنے ایک صحافتی بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نئے سال کی آمد کا جشن منانا،، آتش بازیاں کرنا، اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں ہیںان گناہوں سے مسلم نوجوانوں کو روکنا اور برائیوں سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

مولانا ندیم صدیقی نے مزید کہا کہ نیاسال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتاہے۔ کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہوگیا ہے، اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ہمیں عبادات، معاملات، اعمال، حلال و حرام، حقوق اللہ، اور حقوق العباد،کی ادائے گی کے میدان میں اپنی زندگی کا محاسبہ کرکے دیکھنا چاہیے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں؛ اس لیے کہ انسان دوسروں کی نظروں سے تو اپنی غلطیوں، اور کوتاہیوں کو چھپا سکتا ہے؛ لیکن خود کی نظروں سے نہیں بچ سکتا؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ”حَاسِبُوْا أنْفُسَکُمْ قَبْلَ أنْ تُحَاسَبُوْا“۔ (ترمذی4/247) ترجمہ: تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔اس لیے ہم سب کو ایمان داری سے اپنا اپنا مواخذہ، اور محاسبہ کرنا چاہیے، اور ملی ہوئی مہلت کا فائدہ اٹھانا چاہیے؛ اس سے پہلے کہ یہ مہلت ختم ہوجائے۔

مولانا صدیقی نے مسلم نوجوانوں کی بے راہ روی پر اظہارافسوس کرتے ہوئے کہا کہ اس امت کے کروڑوں روپئے صرف ایک رات میںضائع ہو جاتے ہیں ۔خوشیاں منانے کے نام پراللہ تعالی کی نا فرمانیاں کرکے اپنے کندھوں پہ گناہوں کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں ، اور کئی لوگوں کو اس موقعہ پر اپنی جان تک گوانی پڑتی ہیں ۔آج ہماری نوجوان نسل اس رات کے لئے ہزاروں لاکھوں خرچ کر رہی ہے ،اگر ان کا یہی مال غریبوں اور مجبوروں کے کاموں میں ان کی مدد میں خرچ ہو تو اس سے اللہ بھی راضی اور زندگی کا کچھ مقصد بھی حاصل ہو ۔انہوں نے عامۃ المسلمین اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نئے سال میں ہونے خرافات سے بچائیں ،برائیوں سے بچنے کی تلقین کریں اور ان پر کڑی نظر رکھیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمودات و ارشادات پر عمل کرنے کی تر غیب دلائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں