حیدرآباد (دکن فائلز) کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ بیرسٹر اسدالدین اویسی کی جانب سے عبادتگاہ تحفظ ایکٹ 1991 سے متعلق دائر کی گئی درخواست پر کل یعنیٰ 2 جنوری کو سپریم کورٹ سماعت کرے گی۔ اسدالدین اویسی نے سپریم کورٹ میں عبادتگاہوں سے متعلق 1991 ایکٹ کو ملک میں سختی سے نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عرضی داخل کی ہے۔
اسدالدین اویسی نے 17 دسمبر 2024 کو ایڈوکیٹ فضیل احمد ایوبی کے ذریعہ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
واضح رہے کہ 12 دسمبر 2024 کو چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی میں بنچ نے 1991 کے قانون سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے ملک کی تمام عدالتوں کو اس سے متعلق نئے مقدموں کی سماعت کرنے، مذہبی مقامات پر دعویٰ کرنے کے زیر التواء مقدمات میں کوئی عبوری یا حتمی حکم دینے اور کسی بھی طرح کے سروے کرانے سے روک دیا تھا۔
1991 کا قانون کسی بھی عبادت گاہ کی تبدیلی پر پابندی لگاتا ہے اور کسی بھی عبادت گاہ کے مذہبی کردار کو برقرار رکھنے کا انتظام کرتا ہے جیسا کہ یہ 15 اگست 1947 کو موجود تھا۔
اسدالدین اویسی نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی عرضی میں قانون کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مرکز کو ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے ایسے واقعات کا بھی حوالہ دیا جہاں متعدد عدالتوں نے ہندو وکیلوں کی درخواستوں پر مساجد کے سروے کا حکم دیا۔ امکان ہے کہ سپریم کورٹ 2 جنوری کو اویسی کی عرضی کو زیر التواء معاملات کے ساتھ شامل کرے گی۔


