حیدرآباد (پریس ریلیز) مفتی محمود زبیر قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش نے اپنے پریس نوٹ میں ٹی ڈی پی اور چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے وقف ترمیمی بل کی حمایت کے فیصلہ پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا٬ جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کے تمام ہی ذمہ داران نے چندرا بابو نائیڈو کے اس فیصلہ کو مفاد پرستانہ اور مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ قرار دیا ہے۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کے ریاستی صدر حضرت مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی قاسمی نے کہا کہ چندرا نائیڈو سے بارہا اس سلسلہ میں مسلمانوں کے مختلف وفود بشمول جمعیت علماکے ان سے تیقن حاصل کیا اور ہمیشہ وہ ہر وفد سے یہ بات کہتے رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کا ساتھ دیں گے لیکن عین وقت پر ان کا یہ فیصلہ اور پارٹی وہپ کا حکومت کی تائید میں اجراء مسلمانوں کے پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔
انھوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو مسئلہ کی نزاکت کو یا تو سمجھ نہیں پارہے ہیں یا پھر اس درجہ اندھے ہوگئے ہیں کہ اپنے مفاد کے آگے مسلمانوں کو لاحق ایک عظیم نقصان انہیں نظر نہیں آرہا ہے٬ جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کے ذمہ داروں نے نائیڈو سے مطالبہ کیا ہے وہ اب بھی دست برداری اختیار کریں اور مسلمانوں کا ساتھ دیں۔ ان حضرات نے ملت اسلامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرتے رہیں بالخصوص ٹی ڈی پی کے لیڈران، ایم ایل اے اور ایم پیز سے رابطوں کے ذریعہ کہ وہ نائیڈو کو اس بل کی تائید سے روک سکیں۔
ریاستی جمعیۃ علماء کے ذمہ داران اس خصوص میں رابطہ کیے ہوے کوشاں ہیں لیکن ٹی ڈی پی کا لیٹر اور وہپ مایوس کن ہے ٬ ان حضرات نے کہا کہ جمعیۃ علماء اپنے قائد محترم جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم صدر جمعیت علما ہند کی قیادت میں وقف کی حفاظت کیلئے مسلسل لڑتی رہے گی اور ہر قانونی پہلو سے اس پر قدغن لگانے اور ہر مرحلہ پر اس کو روکنے کی جد وجہد کرتی رہے گی۔
ان حضرات نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مایوسی کا شکار ہوے بغیر بارگاہ الٰہی میں دست بدعا رہیں، وہی ہمارا کارساز اور محافظ ہے۔