حیدرآباد (دکن فائلز) مکہ سے مدینہ کی مقدس سرزمین کی طرف روانہ ہونے والے حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی عمرہ زائرین کے لیے یہ سفر، آخری سفر ثابت ہوا۔ ذرائع کے مطابق مطابق حادثہ میں کم از کم 42 زائرین، جن میں بڑی تعداد تلنگانہ کے افراد کی ہے، اس دلخراش حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ واضح رہے کہ ابھی تک سرکاری طور پر جاں بحق ہونے والی کی تفصیلات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ ہولناک واقعہ پیر کی علی الصبح تقریباً 1 بج کر 30 منٹ (IST) پر مفرحت کے مقام پر اُس وقت پیش آیا جب زائرین کی بس ایک ڈیزل ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے بھی حادثہ پر شدید غم کا اظہار کیا۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے حادثہ پر شدید افسوس اور صدمہ کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوری طور پر ہندوستانی ایمبیسی سے رابطہ کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بس میں 43 مسافر سوار تھے، جن میں سے صرف ایک کے زندہ بچنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ قافلہ حیدرآباد سے روانہ ہوا تھا، جس میں 20 خواتین اور 11 معصوم بچے بھی شامل تھے۔ تمام افراد نے مکہ مکرمہ میں اپنے عمرہ کے مناسک مکمل کر لیے تھے اور عاشقانِ رسول ﷺ کے دل میں مدینہ کی حاضری کی تڑپ لیے سفر پر تھے کہ اچانک موت نے انہیں گھیر لیا۔ یہ عمرہ زائرین نے حیدرآباد کے دو ٹراویلس فلائی زون ٹورس اور المکہ عمرہ گروپ کی جانب سے گئے تھے۔
حادثے کی خبر جیسے ہی تلنگانہ پہنچی، پورے ریاست میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ گھروں میں کہرام مچ گیا ہے اور ہر چہرے پر غم کی گہری لکیریں دکھائی دے رہی ہیں۔ اپنے پیاروں کی حالت جاننے کے لیے بے چین خاندان تڑپ اٹھے ہیں۔
ریاستی حکومت نے سیکریٹریٹ میں ہنگامی کنٹرول روم قائم کر دیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں تک درست معلومات پہنچائی جا سکیں۔ رشتہ دار ان نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں: 79979-59754 اور 99129-19545۔
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے افسوس اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے چیف سکریٹری کے رام کرشن راؤ اور ڈی جی پی شیو دھر ریڈی کو ہدایت دی ہے کہ حادثے میں شامل حیدرآباد اور ریاست کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد کی تفصیلات فوری طور پر جمع کی جائیں۔


