بڑی خبر : اقوام متحدہ میں فلسطین کے حق میں تاریخی قرارداد منظور

حیدرآباد (دکن فائلز) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور اسرائیلی قبضے کے فوری خاتمے کے مطالبے پر مبنی ایک تاریخی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی۔ ’فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل‘ کے عنوان سے پیش کی گئی یہ قرارداد جبوتی، اردن، موریتانیہ، قطر، سینیگال اور فلسطین نے پیش کی تھی، جس کے حق میں 151 ووٹ آئے، جب کہ 11 ممالک نے مخالفت اور 11 نے رائے شماری سے اجتناب کیا۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ اقوام متحدہ، فلسطین کے مسئلے پر اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ 1967 کے بعد اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں پر کیا گیا تمام قبضہ فوری طور پر ختم کرنے اور دو ریاستی حل کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ اسرائیل نئی آبادکاریاں بند کرے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے تمام یہودی آبادکاروں کو نکالے۔

قرارداد میں غزہ میں انسانی بحران کے پیش نظر امداد بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ غزہ یا مغربی کنارے کی آبادیاتی حیثیت میں کسی بھی جغرافیائی تبدیلی کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ بحث کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب اسامہ افتخار احمد نے کہا کہ “دنیا کو اب وعدوں سے آگے بڑھ کر عمل کرنا ہوگا۔” انہوں نے سیزفائر کے نفاذ، اسرائیلی فوج کے انخلا، امدادی رسائی اور غزہ کی تعمیر نو کو فوری تقاضا قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں