حیدرآباد (دکن فائلز) بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار ایک بار پھر سخت تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ بطور چیف منسٹر حلف اٹھانے کے محض ایک ماہ بعد پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعہ میں انہوں نے پٹنہ میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب زبردستی نیچے کرنے کی ناپاک حرکت کی۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس کے بعد نتیش کمار کے طرزِ عمل، ذہنی حالت اور خواتین کے احترام سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 74 سالہ جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سربراہ نتیش کمار آیوش (آیوروید، یوگا و نیچروپیتھی، یونانی، سدھا اور ہومیوپیتھی) کی ایک خاتون ڈاکٹر کو اسناد پیش کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے خاتون کو حجاب ہٹانے کا اشارہ کیا اور اس سے پہلے کہ خاتون کچھ ردِعمل ظاہر کرتیں، نتیش کمار نے خود آگے بڑھ کر ان کا حجاب نیچے کھینچ دیا، جس سے مسلم خاتون ٹھوڑی بے نقاب ہو گئیں۔
پس منظر میں کچھ افراد کو ہنستے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ نائب وزیرِ اعلیٰ سمرت چودھری نتیش کمار کو روکنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ تاہم یہ حرکت اپنی نوعیت کی نہایت ناپاک اور توہین آمیز سمجھی جا رہی ہے۔
اس واقعہ پر کانگریس نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے نتیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے اس اقدام کو “شرمناک” اور “قابلِ مذمت” قرار دیا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے بھی سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آیا یہ واقعہ نتیش کمار کی بگڑتی ہوئی ذہنی حالت کا ثبوت نہیں ہے۔
آر جے ڈی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ہندی میں لکھاکہ “نتیش جی کو کیا ہو گیا ہے؟ ان کی ذہنی حالت اب انتہائی افسوسناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔”
آر جے ڈی کے ترجمان اعجاز احمد نے کہا کہ ایک پردہ کرنے والی مسلم خاتون کے چہرے سے زبردستی حجاب ہٹانا جے ڈی یو-بی جے پی اتحاد کی خواتین اور خاص طور پر مسلم خواتین کے تئیں سوچ کو بے نقاب کرتا ہے۔
ये बिहार के मुख्यमंत्री नीतीश कुमार हैं।
इनकी बेशर्मी देखिए- एक महिला डॉक्टर जब अपना नियुक्ति पत्र लेने आई तो नीतीश कुमार ने उनका हिजाब खींच लिया।
बिहार के सबसे बड़े पद पर बैठा हुआ आदमी सरेआम ऐसी नीच हरकत कर रहा है। सोचिए- राज्य में महिलाएं कितनी सुरक्षित होंगी?
नीतीश कुमार… pic.twitter.com/2AO6czZfAA
— Congress (@INCIndia) December 15, 2025
انہوں نے کہاکہ “ایک مسلم خاتون جو پردے کی پابندی کرتی ہے، اس کے چہرے سے حجاب ہٹانا خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر کی جانے والی سیاست کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ کسی عورت کے پردے کو زبردستی ہٹانا اس کے ثقافتی اور مذہبی طرزِ زندگی کے حق کو چھیننے کے مترادف ہے، جبکہ یہ حق ہندوستانی آئین کے تحت ہر شہری کو حاصل ہے۔”
سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ سماجی تنظیموں اور عام شہریوں نے بھی اس عمل کو مسلم خواتین کی عزت، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک وزیرِ اعلیٰ جیسے اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز شخص سے اس طرح کے غیر مہذب اور توہین آمیز رویہ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔


