حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) امریکہ نے ایک غیر معمولی اور انتہائی خفیہ فوجی کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت تک وینزویلا کا نظم و نسق سنبھالے گا جب تک وہاں “محفوظ اور منصفانہ اقتدار” ممکن نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں 63 سالہ مادورو کو ہتھکڑی اور آنکھوں پر پٹی باندھے امریکی جنگی جہاز پر دکھایا گیا۔ تصویر میں مادورو سرمئی لباس میں ملبوس، بڑے ہیڈفون لگائے اور ہاتھ میں پانی کی بوتل تھامے نظر آ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ، دہشت گردی اور اسلحہ سے متعلق سنگین الزامات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔
امریکی فوج کے اعلیٰ ترین افسر جنرل ڈین کین نے بتایا کہ اس کارروائی کی منصوبہ بندی اور مشق میں کئی ماہ لگے اور اس میں مغربی نصف کرے میں ایک ساتھ 150 سے زائد امریکی طیاروں نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق یہ ایک نہایت پیچیدہ اور انتہائی درستگی پر مبنی آپریشن تھا، جس میں کسی امریکی فوجی کی ہلاکت نہیں ہوئی، اگرچہ چند اہلکار زخمی ہوئے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے تیل کے شعبے کو دوبارہ فعال کیا جائے گا اور امریکی آئل کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے بوسیدہ انفراسٹرکچر کو بحال کریں گی۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ مادورو حکومت تیل کی آمدنی کو “منشیات دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ اور قتل و اغوا” جیسے جرائم کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ واضح رہے کہ وینزویلا 2019 سے امریکی تیل پابندیوں کی زد میں ہے اور یومیہ تقریباً دس لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔
کارروائی کے دوران وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں زور دار دھماکوں اور کم بلندی پر پرواز کرتے طیاروں کی آوازیں سنی گئیں۔ وینزویلا کی حکومت نے اسے امامریکہ ریکا کی جانب سے “انتہائی سنگین فوجی جارحیت” قرار دیتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وینزویلا نے امریکہ سے صدر مادورو کی “زندگی کا ثبوت” فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
عالمی سطح پر اس کارروائی پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ روس، ایران اور دیگر اتحادی ممالک نے امریکی حملے کی مذمت کی، جبکہ یورپی یونین اور فرانس سمیت کئی مغربی ممالک نے بھی بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے صورتحال کو خطے کے لیے خطرناک مثال قرار دیتے ہوئے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب امریکی حمایت یافتہ اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو نے اس پیش رفت کو “آزادی کی گھڑی” قرار دیتے ہوئے 2024 کے صدارتی انتخابات میں اپوزیشن کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز اُروتیا سے فوری طور پر اقتدار سنبھالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مادورو کی گرفتاری اور امریکہ کا براہِ راست مداخلت کا اعلان صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں خارجہ پالیسی کا ایک بڑا اور متنازع موڑ ہے، جس کے اثرات نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے ہوں گے۔


