امریکہ، وینزویلا کے بعد گرین لینڈ پر قبضہ کیوں چاہتا ہے؟ (تفصیلی رپورٹ)

(دکن فائلز کی خصوصی رپورٹ) گرین لینڈ ایک ایسا خطہ ہے جو بظاہر برف میں جکڑا ہوا اور آبادی کے لحاظ سے چھوٹا ہے، مگر جغرافیائی، عسکری اور معاشی اعتبار سے اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی اور حالیہ برسوں میں ایک بار پھر گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لینے کی خواہش ظاہر کر چکا ہے، جس پر یورپ خصوصاً ڈنمارک میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

گرین لینڈ کہاں واقع ہے؟
گرین لینڈ جغرافیائی طور پر برِاعظم شمالی امریکہ میں واقع ہے، تاہم یہ ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خود مختار علاقہ ہے۔ یہ شمالی بحرِ اوقیانوس اور بحرِ منجمد شمالی (آرکٹک) کے درمیان واقع دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 56 ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور اس کی 81 فیصد زمین سال بھر برف سے ڈھکی رہتی ہے، جس کے باعث اسے دنیا کے سرد ترین اور سخت ترین خطوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ گرین لینڈ کا دارالحکومت نُوک ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نُوک، ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کے مقابلے میں امریکی شہر نیویارک کے زیادہ قریب ہے۔ نیویارک سے نُوک کا فاصلہ تقریباً 2,900 کیلومیٹر جبکہ کوپن ہیگن سے نُوک کا فاصلہ تقریباً 3,540 کیلومیٹر ہے۔

تاریخی پس منظر
دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب جرمنی نے ڈنمارک پر قبضہ کیا تو امریکہ نے گرین لینڈ کا دفاعی کنٹرول سنبھال لیا تھا، جو جنگ کے بعد دوبارہ ڈنمارک کو واپس کر دیا گیا۔ 1953 میں گرین لینڈ کو باضابطہ طور پر ڈنمارک کا صوبہ بنایا گیا، تاہم 2009 میں اسے وسیع خود مختاری حاصل ہوئی۔ داخلی امور مقامی حکومت کے پاس ہیں، جبکہ دفاع، خارجہ پالیسی اور کرنسی جیسے معاملات اب بھی ڈنمارک کے کنٹرول میں ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن ہیں۔

قدرتی وسائل: اصل کشش
گرین لینڈ کی سب سے بڑی اہمیت اس کے قدرتی وسائل ہیں۔ یہاں یورینیم، سونا، تیل اور گیس، ریئر ارتھ منرلز (نایاب دھاتیں)، گریفائٹ، لیتھیم اور تانبا جیسے قیمتی ذخائر موجود ہیں۔

’جیولوجیکل سروے آف ڈنمارک اینڈ گرین لینڈ‘ کے مطابق یہاں موجود 17 نایاب دھاتیں جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں اور دفاعی صنعت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ عالمی سطح پر لیتھیم کی طلب میں 2040 تک آٹھ گنا اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

چونکہ نایاب معدنیات کی عالمی مارکیٹ پر چین کا غلبہ ہے، اس لیے امریکہ اور اس کے اتحادی ایسے متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں جن سے چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔ گرین لینڈ اس حکمتِ عملی میں ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

اسٹریٹجک اور عسکری اہمیت
گرین لینڈ بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک کے سنگم پر واقع ہے اور اسے ایک اہم دفاعی گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں امریکہ کا پٹوفک اسپیس بیس (Pituffik Space Base) موجود ہے، جو میزائل ڈیفنس، فضائی نگرانی اور خلائی نظام کے لیے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر روس کی جانب سے امریکہ پر بیلسٹک میزائل حملہ ہو تو اس کا مختصر ترین راستہ آرکٹک اور گرین لینڈ کے اوپر سے گزر سکتا ہے۔ اسی لیے امریکہ یہاں اپنے جدید میزائل ڈیفنس نظام، جسے بعض حلقے ’گولڈن ڈوم‘ قرار دیتے ہیں، نصب کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ کے درمیان واقع سمندری راستہ GIUK Gap کہلاتا ہے، جہاں سے روسی بحریہ بحرِ اوقیانوس میں داخل ہوتی ہے۔ اس علاقے پر کنٹرول کے ذریعے امریکہ روسی آبدوزوں اور جنگی جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے۔

نئی بحری گزرگاہیں اور عالمی تجارت
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آرکٹک کی برف تیزی سے پگھل رہی ہے، جس سے تین نئی بحری گزرگاہیں ابھر کر سامنے آئی ہیں:
1. نارتھ ویسٹ پیسیج – ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کو نہرِ سوئز کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد کم کر دیتا ہے۔
2. ٹرانس پولر روٹ – مستقبل میں مئی سے اکتوبر کے درمیان استعمال کے امکانات۔
3. نارتھ ایسٹ پیسیج (ناردرن سی روٹ) – روسی ساحل کے قریب واقع ہے، مگر اس کا دہانہ گرین لینڈ کے نزدیک ہونے کی وجہ سے یہ امریکہ کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

چین اس راستے کو اپنے ’پولر سلک روڈ‘ منصوبے کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ روس اسے قدرتی وسائل کی ترسیل کے لیے کلیدی ٹرانسپورٹ کوریڈور قرار دیتا ہے۔ گرین لینڈ ان تمام راستوں کے قریب واقع ہونے کے باعث مستقبل میں عالمی تجارت کا ایک اہم ’’چیک پوسٹ‘‘ اور ’’ری فیولنگ ہب‘‘ بن سکتا ہے۔

امریکہ کا مؤقف اور عالمی ردِعمل
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی گرین لینڈ کو خریدنے کی خواہش ظاہر کر چکے تھے۔ حالیہ بیانات میں انہوں نے اسے امریکی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق گرین لینڈ سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

تاہم ڈنمارک، فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، پولینڈ اور برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ہے۔ ڈنمارک نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی جارحانہ کوشش نیٹو اتحاد کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔

گرین لینڈ کے عوام کی رائے
میڈیا رپورٹس کے مطابق گرین لینڈ کے عوام کی اکثریت امریکی کنٹرول کی مخالف ہے اور وہ مکمل خود مختاری کے حق میں ہیں۔ وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات ضرور چاہتے ہیں، مگر گرین لینڈ نہ تو فروخت کے لیے ہے اور نہ ہی کسی طاقت کے قبضے کے لیے۔

گرین لینڈ بظاہر برف سے ڈھکا ہوا ایک خاموش جزیرہ ہے، مگر اس کے نیچے چھپے وسائل، اس کا جغرافیائی محلِ وقوع اور مستقبل کی عالمی تجارت میں ممکنہ کردار اسے امریکہ، چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کے درمیان ایک نئی اسٹریٹجک کشمکش کا مرکز بنا چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں