معاف کرنا اور درگزر کرنا خوشگوار تعلقات کو باقی رکھنے کا اہم ذریعہ: مسجد قبا میں نماز جمعہ سے قبل مولانا حافظ طاہر قاسمی کا خطاب

حیدرآباد (پریس نوٹ) ممتاز اور بافیض عالم دین مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرس نسواں جامعۃ الہدی شاد نگر نے مسجد قبا میں جمعہ کے بیان میں کہا غلطی اور بھول چوک انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ یہ اس کی فطرت کا حصہ اور خاصہ ہے اور یہ بھی کہ ہر کام ہر وقت ہماری سوچ ہمارے مزاج اور ہمارے منشاء کے مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔ جب آدمی اپنے ساتھیوں اور ماتحت افراد کو کسی بات کا حکم دیتا ہے تو وہ کام اس کی ہدایت کے مطابق نہیں ہوتا، بعض مرتبہ کچھ حالات ایسے پیش اتے ہیں کہ آدمی کو اپنوں سے تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اور وہ ان کی وجہ سے مصیبت و پریشانی میں پڑ جاتا ہے۔

ایسے موقع پر ایک سچے اور پابند شریعت مسلمان ہونے کا تقاضہ یہ ہے کہ دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے ان کی ایذا رسانی کے باوجود انھیں معاف کرنے اور درگزر سے کام لینے کا جذبہ اور حوصلہ اپنے اندر پیدا کرے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے مولانا قاسمی نے کہا معاف کرنا اور درگزر کرنا اسلام کی اہم تعلیم ہے قران مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا معاف کرو اور نظر انداز کرو کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالی بھی تمہیں معاف فرمائے اور تمہارے تمہاری بخشش کرے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت شخص وہ ہے جو قدرت اور طاقت رکھنے کے باوجود بدلہ لینے کے بجائے معاف کر دیتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے جانی دشمنوں کو معاف فرما کر اس کا عملی نمونہ پیش فرمایا مولانا نے کہا اسلام کی روشن اور اخلاقی تعلیمات کے برخلاف مسلم معاشرہ میں تحمل و برداشت کا مادہ کم ہوتا جا رہا ہے معمولی معمولی باتوں اور غلطیوں کی وجہ سے لوگ غصہ میں بھڑک جا رہے ہیں اور انتقام کی آگ میں جھلس کر بدلہ لینے کو ضروری سمجھ رہے ہیں اس کی وجہ سے مسلم سماج میں آئے دن قتل کے واقعات پیش آرہے ہیں اور مسلمان خود آپس میں ایک دوسرے کا قتل کر رہے ہیں۔

مولانا نے کہا معاف کرنا بزدلی اور کمزوری نہیں ہے بلکہ یہ اعلی ظرفی اور بڑے پن کی علامت ہے اس کی وجہ سے آدمی دنیا و آخرت میں کامیاب وسرخرو رہتا ہے دنیا میں درگزر کرنے سے تعلقات بحال ہوتے ہیں اور خوشگوار تعلقات قائم رہتے ہیں پھر آخرت میں اللہ تعالی کے یہاں ں اس کا اجر و ثواب مقدر ہے اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں