حیدرآباد (دکن فائلز کی خصوصی رپورٹ) بیٹیاں صرف گھر کی رونق ہی نہیں بلکہ والدین کے لیے صحت، ذہنی سکون اور بڑھاپے میں نعمتِ غیر مترقبہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ حالیہ سائنسی تحقیق اور اسلامی تعلیمات، دونوں اس حقیقت کی مضبوط تائید کرتی ہیں کہ بیٹیوں کی موجودگی والدین، خصوصاً باپ کو ڈیمنشیا (یادداشت کی شدید کمزوری) جیسے خطرناک مرض سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
جرنل آف ویمن اینڈ ایجنگ میں شائع ہونے والی تازہ تحقیق کے مطابق وہ باپ جن کی بیٹیاں ہیں، بڑھاپے میں بہتر یادداشت، مضبوط ذہنی صلاحیتوں اور بہتر ادراکی افعال کے حامل پائے گئے، جبکہ صرف بیٹوں والے والدین میں دماغی کمزوری کے امکانات نسبتاً زیادہ دیکھے گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ فرق کسی حیاتیاتی یا جینیاتی وجہ سے نہیں بلکہ جذباتی اور سماجی تعاون کی بنا پر پیدا ہوتا ہے۔ بیٹیاں عموماً والدین کو جذباتی سہارا فراہم کرتی ہیں، بیماری اور بڑھاپے میں مستقل دیکھ بھال کرتی ہیں، تنہائی کو کم کرتی ہیں اور والدین کو سماجی طور پر متحرک رکھتی ہیں۔
یہ تمام عوامل مل کر دماغی صحت کو برقرار رکھنے اور ذہنی تنزلی کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بیٹیوں کا مثبت اثر ماؤں پر نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔
اسلام نے بیٹی کو عظمت، وقار اور رحمت کا درجہ عطا کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “بیٹیوں کو بُرا مت سمجھو، بے شک وہ محبت کرنے والیاں ہیں۔”
احادیثِ مبارکہ کے مطابق: بیٹیوں کی اچھی پرورش جنت کی ضمانت ہے، بیٹیاں والدین کے لیے جہنم سے ڈھال بنتی ہیں، بیٹیوں پر خرچ کرنا صدقہ کے برابر ہے،
نبی کریم ﷺ کا اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ سے محبت اور احترام کا انداز آج بھی انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
چاہے جدید سائنس ہو یا دینِ اسلام، دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی رحمت ہیں۔ وہ صرف جذباتی خوشی کا ذریعہ نہیں بلکہ صحت مند بڑھاپے، ذہنی سکون اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا وسیلہ بھی ہیں۔
بیٹیاں رحمت ہیں — یہ بات اب مذہبی عقیدہ ہی نہیں، تحقیق سے بھی ثابت ہو چکی ہے۔


