مہاراشٹر حج کمیٹی میں پہلی بار غیر مسلم سی ای او کی تقرری، مسلمانوں میں شدید ناراضگی

فوٹو: فیس بک
حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک غیر مسلم افسر کو چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کیا گیا ہے۔ فری پریس جرنل کی رپورٹ کے مطابق انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے افسر منوج جادھو نے کمیٹی کا چارج سنبھال لیا ہے۔ وہ شیخ ابراہیم شیخ اسلم کی جگہ اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ حکومت اس تقرری کو محض ایک انتظامی فیصلہ قرار دے رہی ہے، تاہم مسلم سماج کے مختلف حلقوں میں اس پر سنجیدہ سوالات اور تحفظات سامنے آئے ہیں، خصوصاً حج 2026 کی تیاریوں کے تناظر میں۔

مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی سعودی حکومت کی جانب سے ملنے والے حج کوٹے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہندوستانی عازمین کے لیے سالانہ حج سفر کا انتظام کرتی ہے۔ ہندوستان سے تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار عازمین حج ہر سال فریضۂ حج ادا کرتے ہیں، جن میں سے اکثریت حج کمیٹی کے ذریعے جبکہ تقریباً ایک چوتھائی نجی حج آپریٹرس کے توسط سے سفر کرتی ہے۔ رہائش، ٹرانسپورٹ، طبی سہولتیں اور انتظامی رہنمائی جیسے امور حج کمیٹی کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔

تقرری پر اعتراضات
منوج جادھو کی تقرری کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ایک غیر مسلم افسر حج جیسے خالص مذہبی فریضے سے جڑے معاملات، مناسک اور عازمین کو درپیش باریک مسائل کو پوری طرح سمجھ پائے گا یا نہیں۔

جامع مسجد کے ٹرسٹی شعیب خطیب نے کہا کہ اگرچہ ایک تجربہ کار سرکاری افسر انتظامی امور میں مہارت رکھتا ہے، لیکن حج کے مذہبی پہلو اور اس کی نزاکتوں کو سمجھنا ایک الگ بات ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سعودی حکام غیر مسلموں کو مقدس مقامات کے مرکزی حصوں میں داخلے کی اجازت نہیں دیتے تو پھر ایسے افسر کو عازمین کے مسائل کا عملی ادراک کیسے ہوگا۔

ممبئی کے ایک اور مسلمان شہری نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے اور اس جیسے حساس مذہبی فریضے سے متعلق ادارے میں غیر مسلم کو ایگزیکٹو آفیسر بنانا قابلِ اعتراض اور ناقابلِ قبول ہے۔

ملک بھر کے مسلمانوں کی جانب سے وقف ترمیمی قانون کی سخت مخالفت کے باوجود حکومت کی جانب سے اس قانون کو نافذ کیا جانا، اور اب حج کمیٹی میں غیر معمولی تقرری، ان فیصلوں کے اثرات آہستہ آہستہ سامنے آ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے اقلیتی برادری میں بے چینی بڑھ رہی ہے، جبکہ حکومت اسے انتظامی اصلاحات کا حصہ قرار دے رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں