حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے پرانا پل علاقہ میں سڑک کنارے بنائے گئے مذہبی ڈھانچہ کی مبینہ توڑ پھوڑ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور تشدد کے واقعات پر کامتی پورہ پولیس نے دو الگ الگ مقدمات درج کر لیے ہیں۔ ان واقعات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جبکہ احتجاج کے نام پر شدت پسندوں نے مذہبی جھنڈے، درگاہ، قبروں اور متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ واقعہ کے بعد علاقے میں بھاری پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے اور حالات کو قابو میں بتایا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق پہلا مقدمہ پرانا پل میں واقع ایک مندر میں نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی توڑ پھوڑ کے سلسلے میں درج کیا گیا، جس سے علاقے میں کشیدگی پھیلی۔ دوسرا مقدمہ ایک شدت پسندوں کے خلاف درج کیا گیا جنہوں نے ہجوم کی شکل میں ہنگامہ برپا کردیا اور دہشت پھیلائی۔ شدت پسند ہجوم پر الزام ہے کہ اس نے گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، پولیس پر پتھراؤ کیا، ایک مذہبی جھنڈے کو نقصان پہنچایا، قبروں کی بے حرمتی کی اور ایک مخصوص طبقہ کے افراد پر حملے کیے۔
واضح رہے کہ چہارشنبہ کی رات اس وقت حالات کشیدہ ہو گئے جب پرانا پل دروازہ کے قریب ایک مندر میں مبینہ طور پر نامعلوم افراد نے توڑ پھوڑ کی اور ایک فلیکسی (بینر) کو پھاڑ دیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ جمع ہو گئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر حالات کو بگڑنے سے روکا۔ سینئر پولیس افسران نے مقامی افراد سے بات چیت کی اور مندر میں متاثرہ حصے کی مرمت بھی کروائی گئی۔
تاہم رات گئے حالات دوبارہ خراب ہو گئے جب ایک مشتعل ہجوم نے قریب واقع دوسری برادری کی ایک درگاہ پر حملہ کیا، قبروں کو نقصان پہنچایا اور ایک مذہبی جھنڈے کی بے حرمتی کی۔ اس دوران ایک دو پہیہ گاڑی کو آگ لگا دی گئی اور کئی دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جس سے موسیٰ ندی کے کنارے واقع مصروف چوراہے پر ٹریفک درہم برہم ہو گئی۔
شدت پسندوں کے ہجوم نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا، جس میں ایک انسپکٹر اور چند کانسٹیبلز سمیت تقریباً دس افراد زخمی ہو گئے۔ بعض مقامات پر دو گروہوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات بھی ملیں۔ صورتحال کے قابو سے باہر ہونے پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور ہجوم کو منتشر کیا۔ فوری طور پر اضافی پولیس فورس کو طلب کیا گیا۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس تفسیر اقبال، چارمینار، گولکنڈہ اور راجندر نگر کے ڈی سی پیز، ٹاسک فورس اور دیگر سینئر افسران موقع پر پہنچ گئے۔
ایڈیشنل کمشنر آف پولیس تفسیر اقبال نے میڈیا کو بتایا کہ چہارشنبہ کی رات تقریباً 11:30 بجے اطلاع ملی کہ کچھ سماج دشمن عناصر مندر میں داخل ہوئے اور فلیکسی پھاڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد لوگ جمع ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حالات پر قابو پا لیا ہے، مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور ملزمان کی شناخت کے لیے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
جمعرات کو حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور مجلس کے صدر اسدالدین اویسی نے پرانا پل کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پولیس اور مقامی لوگوں سے ملاقات کی اور امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ اویسی نے الزام لگایا کہ کچھ طاقتیں جان بوجھ کر رات کے وقت غیر ضروری مسائل کو بنیاد بنا کر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانا پل علاقہ 1980 اور 1990 کی دہائی میں فرقہ وارانہ تشدد کا گواہ رہ چکا ہے، اس لیے یہاں خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پولیس سے سی سی ٹی وی اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر بھی زور دیا۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/ANI/status/2011673280340770907
بی جے پی نے بھی اس واقعہ پر سیاست کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پرانا پل میں مندر کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ تلنگانہ بی جے پی کے ایکس (سابق ٹوئٹر) ہینڈل پر الزام عائد کیا گیا کہ ریاست میں مندروں کی منظم انداز میں توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے اور کانگریس حکومت ووٹ بینک کی سیاست کے تحت سخت کارروائی سے گریز کر رہی ہے۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ نے بھی کانگریس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں انتہا پسند عناصر کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے، جبکہ بی جے پی مندروں کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے کھڑی رہے گی۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/ANI/status/2011690588891201889?
پولیس کے مطابق علاقہ میں امن و امان برقرار ہے، گشت بڑھا دیا گیا ہے اور لوگوں سے افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ توڑ پھوڑ اور تشدد کے ذمہ داروں کی شناخت کے لیے تفتیش جاری ہے اور حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
VIDEO | Hyderabad, Telangana: AIMIM chief Asaduddin Owaisi visits premises of Puranapool Maa Durga temple after alleged vandalisation.
(Source: Third Party) pic.twitter.com/B6u8WqOWl1
— Press Trust of India (@PTI_News) January 15, 2026


